بھارتی پولیس کے نام سے ایکس کو جعلی اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات، کمپنی نے عدالت میں بھانڈا پھوڑ دیا
بھارت میں آزادی اظہار رائے کے لیے کام کرنے والی 2 اہم تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے دہلی پولیس کے نام سے جاری کیے گئے احکامات جعلی نکلے ہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے جمعہ 6 نومبر کو دہلی ہائی کورٹ میں انکشاف کیا کہ اس کے اندرونی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ احکامات کسی شخص نے دہلی پولیس کا اہلکار بن کر بھیجے تھے
ان جعلی احکامات میں انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن اور سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر انڈیا کے اکاؤنٹس بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ان تنظیموں پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بدنامی کی ہے آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جس سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعلق ہے
ایکس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی نے معاملے کی اندرونی تحقیقات کیں، جن سے ظاہر ہوا کہ دہلی پولیس کے نام سے درخواستیں بھیجنے والا شخص پولیس کا اہلکار نہیں بلکہ اس کی نقالی کر رہا تھا دہلی پولیس نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دونوں تنظیموں کو گزشتہ ہفتے آر ایس ایس کی جانب سے مبینہ قانونی نوٹس موصول ہوئے ان نوٹسوں میں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ مواد بند کرنے کے احکامات پر تنقید اور ان کی دستاویز بندی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تنظیموں کے مطابق انہیں ان احکامات پر تنقید کرنے اور سرکاری پابندیوں کو ریکارڈ کرنے سے باز رہنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا
بعد ازاں دہلی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے نام سے ایکس کو درخواستیں بھیجی گئیں، جن میں دونوں تنظیموں کے اکاؤنٹس اور بعض پوسٹس ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا بھارتی قوانین کے تحت ایسے نوٹسوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 3 گھنٹے کے اندر کارروائی کرنا ہوتی ہے ایکس نے تصدیق سے پہلے یہ نوٹس متعلقہ تنظیموں کو بھیج دیے تھے
انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے ان احکامات کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی اس معاملے پر انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے
بھارت میں آزادی اظہار رائے کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ مواد ہٹانے کے سخت قوانین اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں دوسری جانب بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی یا گمراہ کن مواد کے خلاف کیے جاتے ہیں اور قانونی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگاتے
اس واقعے نے بھارت میں انٹرنیٹ آزادی، سیاسی اختلاف اور سرکاری اداروں کے نام پر جعلی قانونی کارروائیوں کے خطرات سے متعلق بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے






