ٹرمپ کی ٹیکساس میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی الٹی پڑگئیں سب چالاکیاں ، ریپبلکنز دو اپنی نشستیں بھی گنوا بیٹھے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پر ٹیکساس کے ریپبلکنز کی جانب سے کانگریس کے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کا منصوبہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں بری طرح ناکام ہوگیا،ریپبلکن قیادت نے 2025 میں انتخابی نقشے تبدیل کرکے پانچ ڈیموکریٹک نشستوں کو اپنے لیے محفوظ بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن انتخابی نتائج نے اس حکمت عملی کو الٹا نقصان پہنچا دیا،ریپبلکنز پانچ میں سے صرف ایک ہدفی نشست حاصل کرسکے، جبکہ اپنی دو پہلے سے موجود نشستیں بھی ڈیموکریٹس کے ہاتھوں ہار گئے
ٹیکساس ٹریبیون کے مطابق، نئی حدبندی سے پہلے ریپبلکنز کو امید تھی کہ ریاست سے کانگریس میں ان کی نمائندگی 30 نشستوں تک پہنچ جائے گی اور ڈیموکریٹس صرف 8 نشستوں تک محدود رہ جائیں گے۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد صورت حال بالکل مختلف ہوگئی اور ریپبلکنز کی نمائندگی 24 جبکہ ڈیموکریٹس کی 14 نشستیں ہوگئی،اس طرح ریپبلکنز کو گزشتہ کانگریس کے آغاز کے مقابلے میں ایک نشست کا نقصان ہوا
نئے انتخابی نقشے کے تحت جن پانچ حلقوں کو ریپبلکنز کے لیے تبدیل کیا گیا تھا، ان میں نویں، 15ویں، 28ویں، 34ویں اور 35ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ شامل تھے،ہیوسٹن کے نویں حلقے میں ڈیموکریٹ لیٹیشیا گوٹیریز نے ریپبلکن الیکس میالر کو شکست دی،28ویں حلقے میں ڈیموکریٹ ہنری کویلر اور 34ویں حلقے میں ڈیموکریٹ وائسینٹے گونزالیز اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہے،سان انتونیو کے 35ویں حلقے میں ڈیموکریٹ جانی گارسیا نے ریپبلکن کارلوس ڈی لا کروز کو شکست دے دی،ریپبلکنز کو پانچ میں سے واحد کامیابی 32ویں حلقے میں حاصل ہوئی، جہاں جیس یاربرو نے ڈین بیریوس کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی
ریپبلکنز کے لیے اس سے بھی بڑا دھچکا جنوبی ٹیکساس کے 15ویں حلقے میں لگا، جہاں ڈیموکریٹ موسیقار بوبی پلیدو نے دو مرتبہ منتخب ہونے والی ریپبلکن رکن کانگریس مونیکا ڈی لا کروز کو شکست دے دی،یہ حلقہ نئی حدبندی کے تحت ریپبلکنز کے لیے زیادہ محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا
ڈیموکریٹس نے 23ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں بھی کامیابی حاصل کی، جہاں کیٹی پڈیلا اسٹاؤٹ نے ریپبلکن امیدوار برینڈن ہیریرا کو شکست دی،یہ نشست سابق ریپبلکن رکن ٹونی گونزالز کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی،گونزالز نے اپریل میں ایک خاتون اسٹاف ممبر کے ساتھ تعلقات کے اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد یہ مقابلہ ڈیموکریٹس کے لیے اہم بن گیا
ٹیکساس ٹریبیون کے مطابق، نئی حدبندی کے خلاف ڈیموکریٹس نے پہلے ریاست سے باہر جاکر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس روکنے کی کوشش بھی کی تھی تاکہ ریپبلکنز کو نقشہ منظور کرنے کے لیے مطلوبہ ارکان کی تعداد حاصل نہ ہوسکے،بعد ازاں قانونی اور سیاسی لڑائی کے باوجود نئی حدبندی نافذ ہوئی، لیکن لاطینی ووٹروں کے رجحان میں تبدیلی نے ریپبلکنز کی حکمت عملی کو متاثر کیا،نئی حدبندی کے چار اہم حلقوں میں لاطینی ووٹرز اہل ووٹروں کی اکثریت رکھتے تھے اور ریپبلکنز کو توقع تھی کہ وہ 2024 میں ٹرمپ کی حاصل کردہ حمایت برقرار رکھیں گے
اس انتخاب کا قومی سیاست پر بھی اثر پڑا ہے،ٹرمپ نے ٹیکساس میں نئی حدبندی کی مہم اس امید پر شروع کی تھی کہ ریپبلکنز ایوانِ نمائندگان میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھنے کے لیے اضافی نشستیں حاصل کرسکیں گے،لیکن ٹیکساس سمیت دوسرے ریاستوں کے نتائج نے اس منصوبے کو ناکام بنادیا،اب ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں، جس سے صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے آخری 2 سال میں مکمل طور پر مخالف جماعت کے زیر کنٹرول کانگریس کا سامنا کرنا ہوگا،ٹیکساس میں یہ صرف پانچ نشستوں کی ناکامی نہیں تھی،ریپبلکنز نے 15ویں اور 23ویں حلقے بھی کھوئے، جنہیں نئی حدبندی کے اصل پانچ اہداف میں شمار نہیں کیا گیا تھا،یہی اس انتخابی نتیجے کا سب سے اہم پہلو ہے





