Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ایران کی مبینہ مدد پر امریکا کی بھارتی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں، بحری جہازوں کی جعلی رجسٹریشن کا الزام

امریکا نے ایران کے تیل کی عالمی پابندیوں سے بچ کر ترسیل میں مدد دینے کے الزام میں بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد اور متعدد کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر ایرانی تیل بردار جہازوں کو جعلی قومی پرچم، غیر قانونی رجسٹریشن اور جعلی بحری سرٹیفکیٹ فراہم کرتا تھا، جس کے ذریعے وہ اپنی اصل شناخت چھپا کر بین الاقوامی پابندیوں سے بچ سکتے تھے
امریکی حکام نے اس مبینہ نیٹ ورک کو ایک بڑے بحری فراڈ کا نظام قرار دیا ہے ان کے مطابق اسے بھارت کے شہر چندی گڑھ سے چلایا جا رہا تھا اور اس کے مرکزی کردار بھارتی شہری سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد تھے امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ دونوں نے مختلف ممالک کی جانب سے بحری رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن کی خدمات فراہم کرنے کا تاثر دے کر ایرانی جہازوں کو سہولت دی۔ ان ممالک میں گیانا، ایسواتینی اور لاؤس سمیت کئی ریاستوں کے نام استعمال کیے گئے
واشنگٹن کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے ایران کے ایسے تیل بردار جہاز اپنی شناخت اور ملکیت سے متعلق معلومات چھپا سکتے تھے جن پر پہلے ہی پابندیاں عائد تھیں اس سے ایرانی تیل کی ترسیل جاری رکھنے اور امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی تھی امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ایرانی فوج اور اس سے منسلک گروہوں کے لیے کام کرنے والے جہازوں کو بھی سہولت فراہم کی
امریکا نے شرما اور شاہد کے علاوہ ان سے منسلک متعدد بھارتی کمپنیوں اور اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے ان اقدامات کے نتیجے میں امریکی دائرہ اختیار میں موجود ان افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروباری لین دین سے روکا جا سکتا ہے اس کے علاوہ دوسرے ممالک کے مالیاتی ادارے اور کاروباری شراکت دار بھی امریکی پابندیوں کے خطرے کے باعث ان کمپنیوں سے تعلقات پر نظرثانی کر سکتے ہیں
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، چاہے وہ زمینی، سمندری یا فضائی راستوں سے ایرانی حکومت کو سہولت فراہم کر رہے ہوں ان کے مطابق امریکا ایران کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنے کے لیے پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر رہا ہے
یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی مہم آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل اور دیگر اہم مصنوعات کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اپنے فوجی اور علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، اس لیے اس تجارت میں مدد دینے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد میں 2 دیگر بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ترکیہ میں قائم کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز انکارپوریشن کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے امریکا کا الزام ہے کہ یہ کمپنی ایرانی فضائی شعبے کو خدمات فراہم کر رہی تھی، حالانکہ واشنگٹن ایرانی ایئرلائنز اور فضائی صنعت سے وابستہ اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا ایران کی تیل برداری کے لیے استعمال ہونے والے خفیہ بحری بیڑے کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہا ہے رواں ماہ بھی واشنگٹن نے ایران کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات بیرون ملک پہنچانے والے 17 جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا
اس معاملے کی اہمیت صرف بھارت کی چند کمپنیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور امریکا کی پابندیوں کے نفاذ سے بھی جڑا ہوا ہے اگر کسی جہاز کی رجسٹریشن، قومی پرچم یا حفاظتی سرٹیفکیٹ جعلی ثابت ہو تو اس کی اصل ملکیت اور سفر کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے امریکا اسی کمزوری کو ایران کی تیل کی تجارت جاری رکھنے کا ذریعہ قرار دے رہا ہے تاہم ان الزامات کی آزادانہ عدالتی تصدیق سامنے آنا باقی ہے

قومی خبریں سے مزید