امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو شکست اور ڈیموکریٹس کے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے بعد کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، درآمدی ٹیکسوں اور کینیڈا کے خلاف سخت بیانات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہے اب کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ انتظامیہ پر تجارتی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھا سکتی ہے
کینیڈا امریکا تعلقات کے ماہر آسا میک کیرچر کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے کانگریس میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف آواز زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے کینیڈا کو مذاکرات میں بہتر پوزیشن مل سکتی ہے
تاہم ماہر اقتصادیات نکولس شمٹ کا مؤقف ہے کہ صرف کانگریس میں اکثریت تبدیل ہونے سے ٹرمپ کے درآمدی ٹیکس فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے صدر کے پاس بعض قوانین کے تحت یکطرفہ طور پر درآمدی ٹیکس لگانے کے اختیارات موجود ہیں اس لیے ڈیموکریٹس کے لیے ان فیصلوں کو تبدیل کرانا آسان نہیں ہوگا
شمٹ کے مطابق امریکی کاروباری اداروں، صنعتوں اور عدالتوں کا دباؤ بھی ٹرمپ کی تجارتی پالیسی تبدیل کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے
ٹرمپ کی ناراضی کینیڈا کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے
ماہر میک کیرچر نے ایک دوسرے ممکنہ خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے ان کے مطابق اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں ٹرمپ کے داخلی سیاسی ایجنڈے کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو صدر اپنی مایوسی کا اظہار تجارتی تنازعات کو مزید بڑھا کر کرسکتے ہیں
ٹرمپ کے پاس اپنے آخری 2 سال میں تجارتی معاملات اور خارجہ پالیسی کے ذریعے ایسے فیصلے کرنے کا اختیار موجود ہے جو کینیڈا کے لیے نئی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں
اس لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو کینیڈا کے لیے مکمل ریلیف سمجھنا قبل از وقت ہوگا
ماہر اقتصادیات نکولس شمٹ کے مطابق ٹرمپ کے درآمدی ٹیکسوں نے اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی کی صنعتوں کو متاثر کیا ہے کینیڈا میں بعض شعبوں میں ملازمتیں ختم ہوئی ہیں جبکہ امریکی کاروباری اداروں کے اخراجات بھی بڑھے ہیں
کینیڈا کی حکومت متبادل تجارتی منڈیوں کی تلاش میں بھی مصروف ہے، لیکن امریکا کے ساتھ کئی دہائیوں سے قائم گہرے تجارتی تعلقات کو مختصر مدت میں تبدیل کرنا ممکن نہیں
مارک کارنی کے لیے اہم سفارتی مرحلہ
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مارک کارنی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تجارتی مذاکرات دوبارہ آگے بڑھنے کے اشارے مل رہے ہیں دونوں رہنماؤں نے یکم نومبر کو ہونے والی گفتگو کو مثبت قرار دیا تھا اور اپنی ٹیموں کو ممکنہ تجارتی معاہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی
کارنی کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بھی معاہدے کے جلد طے پانے کی امید ظاہر کی ہے
ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے کارنی کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے، لیکن اصل فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن کینیڈا کے مطالبات کے قریب آنے کے لیے کس حد تک تیار ہوتا ہے
کینیڈا کے لیے آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو دونوں ممالک کی صنعتوں اور کاروبار کو ریلیف مل سکتا ہے، لیکن اگر ٹرمپ نے سیاسی دباؤ کے جواب میں تجارتی محاذ پر مزید سختی اختیار کی تو کینیڈا کو ایک مرتبہ پھر معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے





