یورپ کے ملک لٹویا میں روسی سرحد سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات کینیڈین فوجیوں کو مقامی آبادی کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے کچھ شہری کینیڈین فوجیوں کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں اور انہیں روسی خطرے کے مقابلے میں اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہیں، جبکہ روسی زبان بولنے والی آبادی کے بعض افراد ان کی موجودگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوجیوں کو توہین آمیز جملے بھی کہتے ہیں
لٹویا میں تقریباً ایک دہائی سے کینیڈا نیٹو کے کثیر ملکی فوجی مشن کی قیادت کر رہا ہے تاہم نومبر 2026 کے آغاز میں اس مشن میں ایک اہم تبدیلی آئی، جب نیٹو کی پوری بریگیڈ کو پہلی مرتبہ روس اور بیلاروس کی سرحدوں کے قریب تعینات کیا گیا اس بریگیڈ میں تقریباً 2,000 کینیڈین فوجی شامل ہیں اس اقدام کا مقصد روس کی جانب سے ممکنہ فوجی یا دیگر خطرات کو روکنا اور نیٹو کے مشرقی محاذ کو مضبوط بنانا ہے
کینیڈین فوجی مشرقی لٹویا کے شہر داوگاوپلز کے قریب فوجی مشقیں کر رہے ہیں یہ شہر روسی سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر اور بیلاروس کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے فوجیوں نے ایک پرانے سوویت دور کے اسکول کی جلی ہوئی عمارت میں قریبی فاصلے پر لڑائی کی مشق کی، جس میں کینیڈین اور اطالوی فوجیوں نے مل کر عمارت کے مختلف حصوں کو محفوظ بنانے کی کارروائی کی۔ اس مشق میں حقیقی جنگ کی صورت حال کی نقل کرتے ہوئے عمارت کے اندر دشمن سے مقابلے کی تربیت دی گئی
کینیڈین فوجی افسران کے مطابق عمارتوں کے اندر اس طرح کی لڑائی انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور حقیقی جنگ میں اس دوران بڑی تعداد میں فوجیوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اسی لیے نیٹو کے مختلف ممالک کے فوجی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مشترکہ کارروائی کر سکیں
داوگاوپلز کی آبادی میں روسی نسل سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے نیٹو اور کینیڈین فوجیوں کی موجودگی پر مقامی لوگوں کی رائے تقسیم ہے ایک کینیڈین فوجی افسر نے بتایا کہ کچھ شہری فوجیوں کو دیکھ کر ان پر غصے کا اظہار کرتے ہیں اور توہین آمیز آوازیں کستے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ ان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور انہیں اپنے تحفظ کے لیے اہم سمجھتے ہیں
اس علاقے میں روسی زبان بولنے والی آبادی اور لٹویا کی حکومت کے درمیان زبان، قومی شناخت اور سیاسی تعلقات کے حوالے سے پہلے ہی اختلافات موجود ہیں لٹویا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فیصد روسی زبان بولتا ہے، جبکہ داوگاوپلز میں یہ تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ شہر کے بعض شہری نیٹو کی فوجی موجودگی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ غیر ملکی فوجیوں کو ان کے شہر میں کیوں تعینات کیا گیا ہے
دوسری جانب لٹویا کے بہت سے شہری کینیڈین فوجیوں کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں روس نے 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ کیا تھا، جس کے بعد بالٹک ممالک میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ روس مستقبل میں ان کے خلاف بھی جارحانہ اقدامات کر سکتا ہے لٹویا، ایسٹونیا اور لیتھوانیا تینوں ممالک نیٹو کے مشرقی محاذ پر واقع ہیں اور روسی سرگرمیوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں
کینیڈین فوجیوں کو صرف زمینی خطرات ہی نہیں بلکہ ڈرونز کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنی پڑ رہی ہے فوجی افسران کے مطابق بعض ڈرون نیٹو کی تربیتی جگہوں کے اوپر پرواز کرتے ہوئے فوجیوں کی تصاویر اور ممکنہ طور پر معلومات جمع کرتے ہیں۔ کچھ ڈرون شہری استعمال کے ہو سکتے ہیں، لیکن بعض کی سرگرمیوں سے جاسوسی یا نگرانی کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہے
اس سے پہلے اگست میں لٹویا کے مختلف علاقوں میں ڈرون خطرے کے باعث شہریوں کو موبائل فون پر حفاظتی انتباہ جاری کیا گیا تھا بعد میں حکام نے بتایا کہ بیلاروس کی جانب سے آنے والا دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون لٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جسے نیٹو کے لڑاکا طیاروں نے مار گرایا اس واقعے نے علاقے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا تھا
کینیڈا کے فوجی مشن کے لیے یہ تعیناتی اس لیے بھی اہم ہے کہ لٹویا اب بیرون ملک کینیڈین مسلح افواج کے سب سے بڑے فوجی مشن کا مرکز بن چکا ہے کینیڈا 2017 سے وہاں نیٹو مشن کی قیادت کر رہا ہے اور اب فوجیوں کو روس اور بیلاروس کی سرحدوں کے قریب مختلف اہم مقامات پر مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جا رہا ہے
لٹویا کے سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ روس بالٹک ممالک پر سیاسی، معاشی اور فوجی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، لیکن ان کے مطابق فی الحال نیٹو کے خلاف براہ راست روایتی جنگ شروع کرنا روس کے لیے آسان نہیں ہوگا نیٹو کی موجودگی اور کینیڈا سمیت اتحادی ممالک کی فوجی طاقت روس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے
اس تمام صورت حال میں کینیڈا کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے کینیڈین فوجیوں کی تعیناتی صرف فوجی مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد روس کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ لٹویا پر حملے کی صورت میں نیٹو کے تمام اتحادی اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہوں گے تاہم مقامی آبادی کے مختلف ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی اثر و رسوخ، تاریخی تعلقات اور زبان کے اختلافات نے اس علاقے میں نیٹو کی موجودگی کو ایک پیچیدہ سیاسی اور سماجی معاملہ بنا دیا ہے






