Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ٹرمپ انتظامیہ کی انتخابی نتائج سے ایک روز قبل سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست، کیلیفورنیا کے 20 ہزار ووٹروں کے بیلٹ روکنے کا مطالبہ

ٹرمپ انتظامیہ کی انتخابی نتائج سے ایک روز قبل سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست، کیلیفورنیا کے 20 ہزار ووٹروں کے بیلٹ روکنے کا مطالبہ

واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے صرف ایک روز قبل امریکی سپریم کورٹ سے ہنگامی مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کیلیفورنیا میں 20 ہزار رجسٹرڈ ووٹروں کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ الگ رکھے جائیں اور ان کی گنتی نہ کی جائے،انتظامیہ کا الزام ہے کہ ان ووٹروں کی فہرست میں ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں
محکمہ انصاف نے اپنی اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر متنازعہ بیلٹ قانونی ووٹوں کے ساتھ ملا دیے گئے تو بعد میں انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہے گا،دوسری جانب کیلیفورنیا حکومت نے کہا ہے کہ ریاست میں انتخابی شفافیت کے لیے پہلے ہی حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور وفاقی انتظامیہ نے جن طریقوں سے یہ 20 ہزار ووٹروں کی فہرست تیار کی ہے وہ انتہائی مشکوک ہیں
28 اکتوبر کو ایک وفاقی جج محکمہ انصاف کی یہ درخواست مسترد کر چکے ہیں کہ ووٹروں کی شہریت کی تصدیق ہونے تک ان کے بیلٹ کی گنتی روک دی جائے،ٹرمپ انتظامیہ نے اب اسی معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھایا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل وفاقی حکومت کے انتخابی معاملات میں کردار کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں کہ غیر شہری غیر قانونی طور پر ووٹ ڈال کر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو رہے ہیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،امریکی آئین کے تحت وفاقی انتخابات کے انعقاد اور ان کے ضابطوں کی ذمہ داری ریاستوں اور کانگریس کو حاصل ہے، صدر یا انتظامی شاخ کو نہیں
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سپریم کورٹ پہنچا ہے جب مڈٹرم انتخابات میں کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول طے ہونے جا رہا ہے،اس لیے عدالت کا فیصلہ نہ صرف کیلیفورنیا کے متنازعہ بیلٹ بلکہ انتخابی عمل میں وفاقی حکومت کے اختیارات کے حوالے سے بھی اہم قانونی اثرات مرتب کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید