روس کی طالبان سے بڑھتی قربت پاکستان کے لیے سفارتی چیلنج، افغان پالیسی میں ماسکو کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا
روس کی جانب سے افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی، سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کی کوششیں خطے کی سیاست میں نئی تبدیلیوں کا اشارہ دے رہی ہیں ماسکو نے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا، جبکہ 2026 میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں اس پیش رفت سے پاکستان کے لیے نئے سفارتی امکانات کے ساتھ ساتھ یہ چیلنج بھی پیدا ہوا ہے کہ کابل کے ساتھ اس کے روایتی اثر و رسوخ کو اب دوسرے علاقائی ممالک کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کا سامنا ہے
روس کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی محض طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے علاقائی سلامتی، وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے مقاصد بھی شامل ہیں ماسکو افغانستان کو ایسی جگہ نہیں دیکھنا چاہتا جہاں سے شدت پسند تنظیمیں روس یا وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرہ بنیں اس کے علاوہ توانائی، تجارت، نقل و حمل، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی روس کی توجہ کا مرکز ہیں
روس کے لیے ایک اہم مسئلہ داعش خراسان کی سرگرمیاں ہیں۔ 2024 میں ماسکو کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے نے روسی حکام کی تشویش بڑھا دی تھی کہ خطے میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورک روسی سرزمین تک حملے کرسکتے ہیں طالبان حکومت افغانستان کے ریاستی اداروں اور سکیورٹی نظام پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہے، اس لیے روس کے نزدیک اس حکومت سے رابطہ رکھنا اپنے سلامتی کے مفادات کے لیے اہم ہے، خواہ طالبان کی حکمرانی اور پالیسیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تحفظات برقرار رہیں
روس نے اپریل 2025 میں طالبان کو اپنی ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا مئی میں ماسکو اور کابل کے درمیان مکمل شراکت داری قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان بھی ہوا ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس طالبان کے ساتھ محدود سفارتی رابطوں سے آگے بڑھ کر ایک طویل مدتی تعلق قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ اس کے روایتی تعلقات اب پہلے جیسی سفارتی اہمیت کی ضمانت نہیں رہے جغرافیائی قربت، سرحد پار تجارت، عوامی روابط اور طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات کی وجہ سے اسلام آباد کو طویل عرصے تک کابل تک رسائی حاصل رہی، لیکن روس جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی شراکت داری طالبان حکومت کو مزید سفارتی راستے فراہم کررہی ہے
اس صورت حال میں کابل کو پاکستان پر سفارتی یا اقتصادی انحصار کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کا اثر و رسوخ ختم ہوجائے گا دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، تجارتی روابط، آمدورفت اور سلامتی کے مشترکہ مسائل ایسے عوامل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان ان تعلقات کو کس طرح عملی تعاون میں تبدیل کرتا ہے
پاکستان کے لیے سب سے اہم مسئلہ تحریک طالبان پاکستان ہے اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جن میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں پاکستان افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ دوسری جانب طالبان حکام عمومی طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن پاکستان کے تحفظات پر قابل تصدیق اقدامات کا معاملہ دونوں حکومتوں کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے
روس اور طالبان کے درمیان داعش خراسان کے خلاف تعاون کی مشترکہ بنیاد موجود ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ماسکو تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بھی اسی سطح پر کارروائی یقینی بنوا سکے گا روس کی اپنی ترجیحات ہیں، جن میں روس اور وسطی ایشیا کو شدت پسندی سے محفوظ رکھنا شامل ہے اس لیے پاکستان کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ماسکو کے ساتھ طالبان کے قریبی تعلقات خودبخود پاکستان کے تمام سلامتی کے مسائل حل کردیں گے
اکتوبر میں افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس میں بھی پاکستان اور افغان طالبان کے اختلافات نمایاں ہوئے اس اجلاس میں پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ افغان طالبان نے پاکستان کے مؤقف اور اقدامات پر اعتراضات اٹھائے دونوں وفود کے درمیان اختلافات کے باعث اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کے باوجود اسلام آباد اور کابل کے درمیان بنیادی تنازعات حل نہیں ہوئے
روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس کا مؤقف رہا ہے کہ ایسی کوشش دونوں فریقوں کی درخواست پر کی جاسکتی ہے پاکستان نے بھی کہا ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے نزدیک پیش رفت کے لیے افغان طالبان کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیاں روکنے کے قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے
اس صورت حال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روس کے ساتھ سفارتی روابط کو مؤثر بنائے، مگر اپنی سلامتی کے معاملات میں کسی تیسرے ملک کی ترجیحات پر مکمل انحصار نہ کرے ماسکو افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے کر علاقائی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کی بنیادی ترجیح سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ اور افغانستان کے ساتھ مستحکم تعلقات کا قیام ہے دونوں ممالک کے مفادات بعض معاملات میں ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں، لیکن ہر مسئلے پر ان کی ترجیحات یکساں ہونا ضروری نہیں
افغانستان کی اقتصادی بحالی، علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے منصوبے پاکستان، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے مشترکہ مواقع پیدا کرسکتے ہیں تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوگا کہ سلامتی کے خدشات کو نظرانداز نہ کیا جائے اور علاقائی تعاون کو محض اعلانات کے بجائے عملی نتائج سے جوڑا جائے
مجموعی طور پر روس کی طالبان حکومت سے بڑھتی ہوئی قربت افغانستان کے سفارتی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی ہے اس سے طالبان کو نئے شراکت دار اور پاکستان کو سفارت کاری کے اضافی راستے مل سکتے ہیں، لیکن پاکستان کے لیے اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب اس کے سلامتی کے خدشات پر ٹھوس پیش رفت ہو اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات قابل تصدیق معاہدوں کے ذریعے حل کیے جائیں





