امریکہ نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف طویل جنگ لڑی، اب منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کی نئی وبا پھیل رہی، جو ہزاروں جانوں کے زیاں کا سبب ہے
امریکہ میں شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف کئی دہائیوں کی قانونی کارروائیوں، پولیس کی تربیت اور عوامی آگاہی کی مہمات کے بعد اب منشیات کے زیر اثر گاڑی چلانا ایک سنگین قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے،منشیات میں مبتلا ڈرائیوروں کے باعث ہونے والے حادثات میں روزانہ اوسطاً 30 افراد ہلاک ہو رہے ہیں، لیکن حکومتی ادارے اس خطرے کی مکمل پیمائش اور روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں،سان فرانسسکو کرانیکل کی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق، مسئلے کی سنگینی کے باوجود امریکہ کے پاس ایسے حادثات اور اموات کا مکمل قومی ریکارڈ بھی موجود نہیں
اخبار کی تحقیق کے مطابق، 2014 سے 2024 کے دوران امریکہ میں گاڑیوں کے حادثات میں 420,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے،ان میں سے تقریباً 110,000 اموات ایسے حادثات میں ہوئیں جن میں کم از کم ایک ڈرائیور کے جسم میں منشیات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی،یہ مجموعی اموات کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ ہے،تاہم، ان اعداد و شمار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایسے حادثے کی وجہ منشیات ہی تھیں، کیونکہ جسم میں کسی مادے کی موجودگی اور حادثے کے وقت اس کے باعث ڈرائیونگ کی صلاحیت متاثر ہونے کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے
تحقیق کے مطابق، 2014 سے 2024 کے دوران کم از کم 28,000 افراد ایسے حادثات میں ہلاک ہوئے جن میں منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کا تعلق سامنے آیا،ان متاثرین میں گاڑیوں کے مسافر اور سڑک پر موجود دوسرے افراد بھی شامل تھے،بعض حادثات میں بچوں، خاندانوں اور ایسے افراد کی جانیں گئیں جن کا خود گاڑی چلانے والے کی منشیات کے استعمال سے کوئی تعلق نہیں تھا
اس مسئلے کی ایک دردناک مثال کیلیفورنیا کے اورنج کاؤنٹی میں پیش آئی، جہاں 11 ماہ کا بچہ میڈن اوہل وائلر اپنے والدین کے ساتھ گھومنے نکلا تھا کہ ایک منشیات کے زیر اثر ڈرائیور کی گاڑی کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا،اس کے والد کائل اوہل وائلر بھی حادثے میں زخمی ہوئے،ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کا خطرہ صرف خود ڈرائیور یا اس کے ساتھ سفر کرنے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پیدل چلنے والوں اور دوسرے بے قصور شہریوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے
سان فرانسسکو کرانیکل نے ہزاروں صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ، پولیس رپورٹس، ڈیش کیم اور باڈی کیم ویڈیوز اور تقریباً 100 متاثرہ افراد اور متعلقہ لوگوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر یہ تحقیق کی،اس میں سامنے آیا کہ منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کی روک تھام میں کئی سطحوں پر خامیاں موجود ہیں،پولیس اہلکاروں کی تربیت ناکافی ہے، حادثات کے بعد منشیات کی جانچ یکساں انداز میں نہیں ہوتی اور وفاقی اداروں کے پاس اموات کا درست اور مکمل حساب رکھنے کا مؤثر نظام نہیں ہے
شراب کے معاملے میں پولیس کے پاس نسبتاً واضح طریقہ موجود ہے،سانس کے ذریعے خون میں الکحل کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جبکہ امریکہ کی تقریباً تمام ریاستوں میں خون میں الکحل کی قانونی حد 0.08 فیصد مقرر ہے،اس کے برعکس، منشیات کے لیے ایسا کوئی وسیع پیمانے پر دستیاب اور قابل اعتماد فوری ٹیسٹ موجود نہیں جو مختلف اقسام کی منشیات کی موجودگی کے ساتھ یہ بھی واضح کر سکے کہ ڈرائیور کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوئی ہے
تحقیق کے مطابق، 1970 کی دہائی سے امریکہ نے شراب کے زیر اثر ڈرائیونگ کے خلاف قانون سازی اور نفاذ کو بتدریج مضبوط کیا،1983 میں اوریگن اور یوٹاہ نے خون میں الکحل کی مقدار 0.08 فیصد یا اس سے زیادہ ہونے پر گاڑی چلانے کو غیر قانونی قرار دیا،بعد کے برسوں میں مزید ریاستوں نے یہی معیار اپنایا، اور 2000 میں کانگریس نے وفاقی قانون کے ذریعے تمام ریاستوں کو اس حد کو اپنانے پر مجبور کرنے کا انتظام کیا،یوٹاہ نے بعد میں اپنی قانونی حد کم کر کے 0.05 فیصد کر دی
اس کے برعکس، منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کے معاملے میں قومی سطح پر ایسی یکساں حکمت عملی تشکیل نہیں دی جا سکی،ماہرین کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مختلف منشیات جسم اور دماغ پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں،کسی مادے کی کتنی مقدار ڈرائیونگ کے لیے خطرناک سمجھی جائے، اس کا تعین کرنا الکحل کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے،اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی مشکلات کو روک تھام اور بہتر تحقیق کے لیے اقدامات نہ کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا
پولیس کی تربیت بھی ایک اہم مسئلہ ہے،شراب کے زیر اثر ڈرائیونگ کی شناخت کے لیے بیشتر پولیس اکیڈمیوں میں معیاری جسمانی آزمائشوں کی تربیت دی جاتی ہے، جن میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا، سیدھی لکیر پر چلنا اور آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کا جائزہ لینا شامل ہے،لیکن منشیات کے اثرات کی شناخت کے لیے خصوصی تربیت بہت کم اہلکاروں کو حاصل ہے
تحقیق کے مطابق، امریکہ میں گزشتہ سال تک صرف 8,600 سے کچھ زیادہ پولیس اہلکار منشیات کے زیر اثر ڈرائیوروں کی شناخت کے لیے ماہرین کی مخصوص تربیت حاصل کر کے تصدیق شدہ تھے،یہ ملک کے مجموعی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا تقریباً 1 فیصد بنتا ہے،2019 میں ایسے اہلکاروں کی تعداد تقریباً 9,900 تھی،بعض اہلکار ترقی یا دوسری ذمہ داریوں پر منتقل ہونے کے بعد اپنی خصوصی سند کی تجدید نہیں کراتے، جس سے تربیت یافتہ عملے کی تعداد مزید کم ہو جاتی ہے
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اہلکار بعض اوقات ایسے ڈرائیور کو نشے میں نہیں سمجھتے جو شراب کی بو نہیں دیتا یا جس کے سانس کے ٹیسٹ میں الکحل کی زیادہ مقدار سامنے نہیں آتی،لیکن وہ ڈرائیور درد کم کرنے والی ادویات، فینٹانل، میتھ ایمفیٹامین، کوکین یا چرس کے اثر میں ہو سکتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اہلکاروں کو ان مختلف مادوں کی علامات پہچاننے کی تربیت نہ ہو تو خطرناک ڈرائیور کو روکنے کے باوجود اس کی حالت نظرانداز ہو سکتی ہے
نیویارک ریاست میں ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے تحقیق میں بتایا گیا کہ تھامس میک گراتھ کو ایک حادثے کے بعد پولیس نے معائنے کے بغیر جانے دیا،دو دن بعد اس نے ایک اور گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری، لیکن اس وقت بھی اس کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا،اسی روز وہ ایک دوسری سڑک پر ڈبل پیلی لائن عبور کر کے 17 سالہ مائیکل کلائنک جونیئر کی گاڑی سے ٹکرا گیا،نوجوان شدید زخمی ہوا اور دو دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا،میک گراتھ نے بعد میں قتلِ غیر ارادی اور منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کے الزامات تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس نے فینٹانل سے آلودہ ویکوڈین نامی درد کش دوا لی تھی اور شراب بھی پی تھی
تحقیق کے مطابق، حادثات کے بعد منشیات کی جانچ کا نظام بھی یکساں نہیں،بعض پولیس محکمے اور لیبارٹریاں محدود تعداد میں منشیات کے ٹیسٹ کرتی ہیں، جبکہ کچھ جگہوں پر اگر خون میں الکحل کی مقدار ایک مقررہ سطح سے زیادہ ہو تو دوسری منشیات کی جانچ ہی نہیں کی جاتی،اسے اسٹاپ ٹیسٹنگ کہا جاتا ہے،اس طریقے کے باعث ایسے شواہد سامنے نہیں آتے جو یہ واضح کر سکیں کہ شراب کے ساتھ کسی دوسری منشیات نے بھی حادثے میں کردار ادا کیا تھا یا نہیں
نیشنل سیفٹی کونسل کے منشیات اور نشے سے متعلق شعبے نے لیبارٹریوں کے لیے 35 اہم منشیات کی جانچ سمیت یکساں معیار کی سفارش کی ہے، لیکن تحقیق کے مطابق، ایک سروے میں حصہ لینے والی لیبارٹریوں میں سے صرف 16 فیصد ان رہنما اصولوں پر مکمل عمل کر رہی تھیں،بعض ریاستوں میں ٹیسٹ کے لیے درکار عملے، وسائل اور جدید آلات کی کمی بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے،بعض لیبارٹریوں میں زہریلے مادوں کے ٹیسٹ کے نتائج آنے میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں، جس سے قومی اعداد و شمار میں تاخیر اور کمی واقع ہوتی ہے
امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن، جو سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کا قومی ڈیٹا جمع کرتی ہے، نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے تسلیم کیا تھا کہ منشیات سے متعلق تمام اموات کا حساب نہیں رکھا جا رہا،تحقیق کے مطابق، یہ خامی اب بھی برقرار ہے،2023 میں مہلک حادثات میں شامل تقریباً دو تہائی ڈرائیوروں کے لیے قومی ڈیٹا بیس میں منشیات کے ٹیسٹ کا ریکارڈ موجود نہیں تھا،ریاستوں کے درمیان بھی فرق نمایاں ہے،شمالی کیرولائنا میں مہلک حادثات میں شامل صرف 8 فیصد ڈرائیوروں کے لیے منشیات کے ٹیسٹ کا ریکارڈ موجود تھا، جبکہ کیلیفورنیا میں یہ شرح 71 فیصد اور میساچوسٹس میں 96 فیصد تھی
اس مسئلے کے ساتھ چرس کے استعمال سے متعلق بدلتے قوانین اور رویے بھی جڑے ہوئے ہیں،امریکہ کی متعدد ریاستوں میں چرس قانونی ہو چکی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے استعمال کے بعد گاڑی چلانا محفوظ ہے،2025 کے ایک قومی سروے میں تقریباً 30 فیصد لائسنس یافتہ ڈرائیوروں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ چرس استعمال کرنے کے ایک گھنٹے کے اندر گاڑی چلانا انتہائی یا بہت خطرناک ہے،ماہرین اسے خطرے کے بارے میں عوامی آگاہی کی کمی قرار دیتے ہیں
وفاقی اداروں نے اس مسئلے پر تحقیق اور تربیت کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے ہیں،نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے 2022 میں سفارش کی تھی کہ مہلک حادثات اور نشے میں ڈرائیونگ کے واقعات میں منشیات کی جانچ کے یکساں اصول بنائے جائیں اور شراب کی موجودگی کے باوجود دوسری منشیات کے ٹیسٹ کیے جائیں،اس نے ادویات کے لیبل پر ڈرائیونگ سے متعلق خطرات کو زیادہ واضح کرنے کے لیے بھی اقدامات کی سفارش کی،تاہم تحقیق کے مطابق ان میں سے متعدد تجاویز پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ کے خلاف ریاستی اداروں کو تربیت، مالی وسائل اور تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے، لیکن وفاقی حکومت ریاستوں کے ٹریفک قوانین یا مقامی لیبارٹریوں کے طریقہ کار کو براہ راست لازمی قرار نہیں دے سکتی،ادارے نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ وہ اس مسئلے کو نظرانداز کر رہا ہے یا سفارشات پر عمل درآمد میں غیر ضروری تاخیر کر رہا ہے
سان فرانسسکو کرانیکل کی تحقیق کے مطابق، وفاقی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے والے متعلقہ شعبے میں عملے کی تعداد بھی کم ہوئی ہے،2025 کے آغاز میں نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے امپیرڈ ڈرائیونگ ڈویژن میں 8 ملازمین تھے، لیکن بعد میں عملے کی کمی کے باعث یہ تعداد گھٹ کر 3 رہ گئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف سخت قوانین کافی نہیں ہوں گے،پولیس کی خصوصی تربیت، حادثات کے بعد منشیات کی جامع جانچ، قومی سطح پر یکساں ڈیٹا، قابل اعتماد فوری ٹیسٹ اور ڈرائیوروں میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے،شراب کے زیر اثر ڈرائیونگ کے خلاف امریکہ کی سابقہ مہمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقل قانون سازی، نفاذ اور عوامی آگاہی کے ذریعے
اموات کم کی جا سکتی ہیں،لیکن منشیات کے معاملے میں، جب تک حکومتیں خطرے کی درست پیمائش اور روک تھام کے لیے مربوط نظام نہیں بناتیں، یہ مسئلہ سڑکوں پر انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنتا رہے گا





