پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 31 بچوں کی ہلاکت پر مالک اور متعلقہ محکموں کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا
پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 30 بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں اسکول کے مالک کو ناقص تعمیراتی سامان استعمال کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے رپورٹ میں متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے
یہ افسوسناک واقعہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں ایک کثیر منزلہ نجی اسکول کی عمارت کی چھت اچانک گر گئی حادثے کے نتیجے میں کم از کم 30 بچے اور ایک استاد ہلاک ہوگئے، جبکہ درجنوں دیگر افراد زخمی ہوئے اس حادثے نے بچوں کی تعلیمی درس گاہوں میں عمارتوں کی حفاظت اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں
ابتدائی تفصیلات کے مطابق عمارت کی بالائی منزل کی چھت نیچے موجود کلاس روم میں جاگری، جس کے نتیجے میں دونوں منزلیں منہدم ہوگئیں اس وقت کلاس روم میں موجود طلبہ ملبے تلے دب گئے۔ امدادی کارکنوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ملبے سے بچوں اور دیگر متاثرین کو نکالنے کے لیے کارروائیاں کیں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے اس حادثے کو علاقے کے انتہائی المناک واقعات میں شامل کردیا
واقعے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ گورنر کو پیش کردی، جس میں عمارت کی تعمیر میں ناقص معیار کے سامان کے استعمال کو حادثے کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے اسکول کے مالک کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے
رپورٹ میں صرف اسکول کے مالک کی ذمہ داری ہی سامنے نہیں آئی بلکہ متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اس پہلو کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا صرف نجی مالکان کی ذمہ داری نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ تعمیراتی معیار، عمارت کی مضبوطی اور طلبہ کے لیے محفوظ ماحول کی جانچ کریں
تحقیقاتی اجلاس میں گورنر کو حادثے کی وجوہات، متعلقہ حکام کے بیانات، مختلف محکموں کی ذمہ داریوں اور کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی گورنر نے ہدایت کی کہ رپورٹ کے قانونی پہلوؤں کا محکمہ قانون سے مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
اس سانحے نے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھا دیا ہے کہ اگر اسکولوں کی عمارتوں میں ناقص تعمیراتی سامان استعمال کیا جائے یا حفاظتی ضوابط پر عمل نہ ہو تو اس کی بروقت نشاندہی کیوں نہیں ہوتی اگر عمارتوں کی تعمیر اور استعمال کے دوران باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بروقت کارروائی ہو تو ایسے حادثات کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں
نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی حفاظت والدین کے اعتماد کا بنیادی حصہ ہے والدین اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول بھیجتے ہیں، جہاں ان کی سلامتی یقینی بنانا انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس واقعے میں 30 بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت اس امر کی یاد دہانی ہے کہ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ اس کے نتائج انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں
اب اہم مرحلہ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا ہے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقات کے نتائج کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے، متعلقہ محکموں کی غفلت کا بھی احتساب ہو اور دیگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کا مؤثر جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جاسکے





