اقوام متحدہ میں امریکی سفیر اور کیوبا کے وزیر خارجہ میں تلخ کلامی کے بعد امریکہ نے کیوبا کے سفارت کار کو ملک بدر کر دیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز کے درمیان شدید تلخ کلامی کے بعد امریکہ نے کیوبا کے ایک سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے،یہ واقعہ منگل کو کیوبا پر امریکی اقتصادی پابندیوں کے موضوع پر سالانہ بحث کے دوران پیش آیا، جب دونوں ممالک کے نمائندوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے اور بلند آواز میں بحث کی
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی سفیر مائیک والٹز نے کیوبا کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمران طبقہ ملک کے عوام کو غربت میں دھکیل کر خود دولت جمع کر رہا ہے،کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے ان الزامات پر اعتراض کیا اور والٹز کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا،دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے جنرل اسمبلی کا اجلاس غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہو گیا
اس دوران کیوبا کے سفارتی مشن کے فرسٹ سیکریٹری رچرڈ ٹور دے لا کونسیپسیون اور امریکی وفد کے ایک رکن کے درمیان بھی جھگڑا ہوا،امریکی حکام کے مطابق، کیوبا کے سفارت کار نے امریکی اہلکار کے موبائل فون پر ہاتھ مارا، جس کے ذریعے وہ اس واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا،ویڈیو میں ٹور دے لا کونسیپسیون کو فون ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار نے ان کی ذاتی حدود کی خلاف ورزی کی تھی
امریکی سفیر والٹز نے منگل کو سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو جاری کی،ان کا الزام تھا کہ کیوبا کے سفارت کار نے امریکی وفد کی آواز بند کرانے کے لیے اقوام متحدہ کے عملے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی تھی،بعد ازاں امریکی حکام نے رچرڈ ٹور دے لا کونسیپسیون کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس اقدام کی منظوری دی، جبکہ والٹز کے مطابق کیوبا کے سفارت کار کو 24 گھنٹوں کے اندر ہوانا واپس بھیجا جانا تھا
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں،اقوام متحدہ میں ہونے والی بحث کا بنیادی موضوع کیوبا پر امریکہ کی کئی دہائیوں سے جاری اقتصادی پابندیاں تھیں،جنرل اسمبلی کے رکن ممالک نے ایک قرارداد پر بھی ووٹ دیا جس میں امریکہ سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا،130 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، 17 نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 25 ممالک غیر حاضر رہے یا ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ کیوبا کی قیادت بدعنوانی اور سیاسی جبر کی ذمہ دار ہے، جبکہ کیوبا پابندیوں کو اپنی معیشت کی مشکلات اور عوام کو درپیش مسائل کی بڑی وجہ قرار دیتا ہے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں





