Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گوادر کے سمندر میں ڈولفن مچھلیوں کے بڑے غول کی آمد، سبز پانی کے باوجود سمندری حیات محفوظ ہونے کے آثار

گوادر کے سمندر میں ڈولفن مچھلیوں کے بڑے غول کی آمد، سبز پانی کے باوجود سمندری حیات محفوظ ہونے کے آثار

گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے مغربی خلیج میں بوتل ناک ڈولفن مچھلیوں کے بڑے غول کی موجودگی نے سمندری حیات کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہونے کے باوجود ڈولفن کی موجودگی کو ایک حوصلہ افزا علامت قرار دیا گیا ہے ماہرین کے مطابق پانی کی یہ تبدیلی ایک قدرتی موسمی عمل کے باعث ہے اور موجودہ صورت حال میں اس کے سمندری حیات کے لیے زہریلا ہونے کے شواہد نہیں ملے
گوادر کے ساحلی پانیوں میں ڈولفن کے غول کی موجودگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا رنگ کئی مقامات پر سبز دکھائی دے رہا ہے اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ایک خلوی سمندری جاندار نوکٹائلوکا کی افزائش ہے، جسے سائنسی زبان میں نوکٹائلوکا سکنٹی لینز کہا جاتا ہے اس جاندار کی تعداد مخصوص موسمی حالات میں تیزی سے بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث سمندر کے پانی کا رنگ سبز، نارنجی یا بعض اوقات سرخی مائل ہو سکتا ہے
بلوچستان کے محکمہ سمندری ماہی گیری کے ڈائریکٹر احمد ندیم کے مطابق اس طرح کی قدرتی تبدیلی سال میں ایک یا 2 مرتبہ بھی دیکھنے میں آتی ہے ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال سے ماہی گیروں کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہیں اور سمندری پانی میں پیدا ہونے والے غذائی اجزا بعض حالات میں آبی حیات کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتے ہیں
ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ نوکٹائلوکا کی موجودہ افزائش کو آلودگی سے جوڑنے کے لیے سائنسی شواہد درکار ہیں ان کے مطابق موجودہ سبز رنگ کی وجہ اس جاندار کے ساتھ موجود ایک خردبینی جاندار ہے، جو سورج کی روشنی میں ضیائی تالیف کے ذریعے آکسیجن پیدا کر سکتا ہے اس لیے موجودہ کیفیت کو ماضی میں مچھلیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کے بعض واقعات کے برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا
ماہرین کے مطابق شمالی بحیرہ عرب میں سردیوں کے دوران سمندر کے اندر پانی کی گردش اور گہرائی سے نسبتاً ٹھنڈے پانی کے اوپر آنے جیسے عوامل اس قدرتی عمل کو بڑھا سکتے ہیں اس کے نتیجے میں سمندر کے بعض حصوں میں خردبینی جانداروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور پانی کی ظاہری رنگت تبدیل ہو جاتی ہے رات کے وقت نوکٹائلوکا کی بعض اقسام سمندر میں روشنی جیسی چمک بھی پیدا کر سکتی ہیں
پاکستان کی ساحلی پٹی سمندری حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے گوادر کے علاوہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا، اورماڑہ، جزیرہ استولا اور دیگر ساحلی مقامات پر بھی ڈولفن اور وہیل کی مختلف اقسام دیکھی جاتی ہیں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے مطابق ملک کے سمندری پانیوں میں ڈولفن اور وہیل کی 27 اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں ان کی موجودگی سمندری خوراک کی دستیابی اور ماحول کی کیفیت سمجھنے میں مدد دیتی ہے
تاہم ڈولفن کی موجودگی کو سمندری ماحول کے مکمل طور پر محفوظ ہونے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے پاکستان کے ساحلی علاقوں کو پلاسٹک اور صنعتی آلودگی، غیر قانونی یا ضرورت سے زیادہ ماہی گیری، جہازوں کی آمدورفت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان عوامل سے سمندری جانوروں کی خوراک، افزائش اور قدرتی رہائش گاہیں متاثر ہو سکتی ہیں
گوادر کے ساحل پر ڈولفن کے غول کی آمد ایک مثبت قدرتی منظر ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ سمندری ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے ماہرین کے مطابق ساحلی علاقوں میں آلودگی پر قابو پانے، مچھلیوں کے ذخائر کے پائیدار استعمال اور سمندری جانوروں کی رہائش گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ پاکستان کی ساحلی دولت آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہ سکے

قومی خبریں سے مزید