Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

افغان فورسز کی انگور اڈہ میں فائرنگ، ایک شہری ہلاک، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی، پاک فوج کی جوابی کارروائی

افغان فورسز کی انگور اڈہ میں فائرنگ، ایک شہری ہلاک، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی، پاک فوج کی جوابی کارروائی

جنوبی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ایک مقامی شہری ہلاک جبکہ ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی ہو گئے اطلاعات کے مطابق افغان جانب سے داغا گیا مارٹر گولہ ایک گھر پر گرا، جس سے گھر میں موجود افراد متاثر ہوئے
حکام کے مطابق منگل کی رات افغان سرزمین پر قائم چوکیوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ میں اسنائپر رائفلوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور افغان طالبان کی متعدد سرحدی چوکیوں، مارٹر ٹھکانوں اور دفاعی مورچوں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں توپ خانے سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان اپنے بعض مورچے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے علاقے میں سرحدی پوزیشنوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔ تاہم جھڑپ کے دوران افغان جانب ہونے والے جانی نقصان کی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی
انگور اڈہ پاک افغان سرحد کا ایک اہم اور حساس مقام ہے یہ راستہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور لوگوں کی آمدورفت کے لیے اہمیت رکھتا ہے سرحدی جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات سے نہ صرف مقامی آبادی کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں، نقل و حرکت اور روزمرہ معمولات میں بھی خلل پڑتا ہے
سرحد کے قریب رہنے والے قبائلی خاندان پہلے ہی عدم تحفظ کے خدشات کا سامنا کرتے ہیں فائرنگ یا مارٹر گولے رہائشی علاقوں میں گرنے سے عام شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں اور گھروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے حالیہ واقعے میں ایک شہری کی ہلاکت اور ایک ہی خاندان کے 5 افراد کے زخمی ہونے سے سرحدی آبادی کو درپیش خطرات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں
پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں سرحدی انتظام، مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور دونوں جانب سکیورٹی چوکیوں کے درمیان رابطے کی کمی ایسے مسائل ہیں جن کے باعث معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے
موجودہ صورت حال میں شہری آبادی کا تحفظ، زخمیوں کو فوری طبی امداد اور سرحدی تنازعات کو سفارتی رابطوں کے ذریعے حل کرنا اہم ہے اگر سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات کا مستقل حل تلاش نہ کیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ان عام خاندانوں کو اٹھانا پڑے گا جو سرحد کے قریب اپنے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید