ٹرمپ انتظامیہ پر عدالتی فیصلے بدلوانے کا الزام، امیگریشن جج کی برطرفی کے بعد ڈیموکریٹس کا عدالتی آزادی کے لیے قانون سازی کا مطالبہ
امریکی محکمۂ انصاف پر امیگریشن ججوں کے فیصلوں میں مداخلت کے الزامات نے عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کے اختیارات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن عدالتوں کو محکمۂ انصاف کے انتظامی کنٹرول سے نکال کر ایک آزاد عدالتی نظام قائم کیا جائے،یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق امیگریشن جج کیرن ڈونوسو اسٹیونز نے بتایا کہ انہیں تارکین وطن کی ضمانت سے متعلق اپنے فیصلے واپس لینے کے لیے اعلیٰ حکام کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، اور بعد ازاں انہیں اہم عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹا کر ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ڈونوسو اسٹیونز نے ستمبر 2025 میں چار ایسے تارکین وطن کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے کیے تھے جو کم عمری میں اپنے والدین یا سرپرستوں کے بغیر غیر قانونی طور پر امریکہ آئے تھے اور بعد میں بالغ ہو گئے تھے،جج کے مطابق ان مقدمات میں قانونی بنیادوں پر ضمانت کی اجازت دی جا سکتی تھی، لیکن ان کے نگران افسر ایرک ڈِلّو نے انہیں بتایا کہ اعلیٰ حکام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود ہی واپس لے لیں،جج نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو ان کے فیصلوں پر اعتراض تھا تو اسے قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست یا اپیل دائر کرنی چاہیے تھی، نہ کہ جج پر فیصلہ بدلنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے تھا
رپورٹ کے مطابق، ڈونوسو اسٹیونز نے اپنے ذاتی نوٹس میں اس گفتگو کی تفصیلات درج کی تھیں،انہوں نے بتایا کہ ان کے نگران نے پہلے متعلقہ قانونی فیصلوں پر گفتگو کی، لیکن بعد میں کہا کہ اعلیٰ حکام چاہتے ہیں کہ ضمانت کے احکامات منسوخ کر دیے جائیں،جج کے مطابق انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی باضابطہ طور پر فیصلوں پر نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کرے گا،واشنگٹن پوسٹ نے جج کے نوٹس، ان کے ساتھیوں اور وکلا کے بیانات کی مدد سے ان الزامات کی جانچ کی،اخبار سے گفتگو کرنے والے تین قانونی ماہرین نے، رپورٹ کے مطابق، اگر یہ مداخلت اسی طرح ہوئی تو اسے عدالتی آزادی کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا
ڈونوسو اسٹیونز نے بتایا کہ دباؤ یہیں ختم نہیں ہوا،نومبر 2025 میں امیگریشن عدالتوں کے نظام کی سربراہ ٹریسا ایل رائلی نے ان سے چھ دیگر مقدمات میں ضمانت دینے کے فیصلوں کی وضاحت طلب کی،جج کے مطابق ان مقدمات میں وفاقی عدالتوں نے حکومت کو باقاعدہ سماعتیں کرنے کا حکم دیا تھا، کیونکہ تارکین وطن نے اپنی حراست کو عدالت میں چیلنج کیا تھا،جنوری میں ان کے ایک اور نگران رابرٹ لنڈبرگ نے مبینہ طور پر انہیں کہا کہ وفاقی عدالت کی جانب سے ضمانت کی سماعت کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں کہ جج کو ضمانت بھی دینی ہوگی،ڈونوسو اسٹیونز نے اسے ایسی سماعتیں کرانے کی ہدایت سمجھا جن کے نتائج پہلے ہی طے شدہ ہوں
14 جنوری کو انہیں اچانک حراست میں موجود تارکین وطن کے مقدمات کی سماعت سے ہٹا دیا گیا،ان کے مطابق انہیں اپنے زیر سماعت مقدمات مکمل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور ان کی جگہ ایک دوسرے جج نے کام سنبھال لیا،بعد ازاں انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا،ڈونوسو اسٹیونز کا کہنا ہے کہ انہیں برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی اور انہوں نے اس فیصلے کے خلاف قانونی اپیل کی ہے
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی امیگریشن عدالتیں عام وفاقی عدالتوں کی طرح انتظامیہ سے الگ نہیں بلکہ محکمۂ انصاف کے ماتحت کام کرتی ہیں،امیگریشن ججوں کی تقرری، نگرانی اور ملازمت کے معاملات اسی انتظامی ڈھانچے سے جڑے ہیں جس کی پالیسیوں کے تحت حکومت ملک بدری اور حراست کے اقدامات کرتی ہے،ناقدین کے مطابق اس انتظامی تعلق سے مفادات کے تصادم اور سیاسی دباؤ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، خصوصاً اس وقت جب حکومت تیز رفتار ملک بدری اور زیادہ مقدمات نمٹانے کے اہداف مقرر کرتی ہے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً 700 امیگریشن ججوں میں سے 100 سے زیادہ کو برطرف کیا جا چکا ہے،انتظامیہ نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیگریشن عدالتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنا چاہیے اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ختم ہونی چاہیے،محکمۂ انصاف کا مؤقف ہے کہ ججوں کو قانون اور شواہد کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ فیصلے کرنے چاہئیں، جبکہ اس نے ڈونوسو اسٹیونز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ مقدمات کے نتائج کے بجائے قانونی تقاضوں اور کارکردگی پر توجہ دیتا ہے
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن اور ڈک ڈربن سمیت کانگریس کے ارکان نے امیگریشن عدالتوں کو محکمۂ انصاف کے انتظامی کنٹرول سے نکالنے کے لیے قانون سازی کی حمایت کی ہے،مجوزہ اصلاحات کا مقصد ایسا آزاد عدالتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جس میں ججوں کے فیصلوں پر انتظامیہ کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے،تاہم ریپبلکن حمایت کے بغیر ان تجاویز کی منظوری کے امکانات محدود ہیں
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی حراست اور ملک بدری میں تیزی لانے کی کوشش کر رہی ہے،قانونی ماہرین کے مطابق، اگر ججوں کو انتظامی دباؤ کے تحت فیصلے بدلنے یا اپنی ملازمت کھونے کا خدشہ ہو تو اس سے نہ صرف امیگریشن عدالتوں کی ساکھ بلکہ منصفانہ سماعت اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے





