برازیل کے سابق صدر کے بیٹے فلاویو بولسونارو اہل خانہ سمیت واشنگٹن پہنچ گئے،انتخابی شکست کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ
واشنگٹن: فلاویو بولسونارو صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد امریکہ پہنچ گئے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فلاویو بولسونارو، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دی گئی، ان کی امریکہ آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برازیل اور واشنگٹن کے تعلقات پہلے ہی سیاسی اختلافات کی زد میں ہیں
فلاویو بولسونارو نے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کے موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے مقابلے میں شکست کے بعد بھی اپنی شکست تسلیم نہیں کی،رائٹرز کے مطابق وہ برازیل کی سپریم کورٹ کے اس حکم پر عمل کرنے سے بھی گریزاں رہے جس کے تحت انہیں اپنے پاسپورٹ عدالت کے حوالے کرنا تھے،یہ حکم منی لانڈرنگ کی تحقیقات سے متعلق ہے، تاہم فلاویو بولسونارو نے اس معاملے میں کسی غلط کام کی تردید کی ہے
رائٹرز کو منگل کی سہ پہر تین ذرائع نے بتایا کہ فلاویو بولسونارو برازیل چھوڑ کر امریکہ پہنچ گئے ہیں،خاندان کے قریب ایک ذریعے نے بتایا کہ فلاویو فلوریڈا پہنچے ہیں، تاہم ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں سمیت خاندان کے دیگر افراد کے مقام کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ فلاویو بولسونارو اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کیے جائیں گے اور انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی
فلاویو بولسونارو کی برازیل سے روانگی دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر سکتی ہے،برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ بولسونارو خاندان کے ساتھ مل کر انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے،
برازیل کی سیاست میں بولسونارو خاندان کا اثر و رسوخ طویل عرصے سے موجود ہے،فلاویو بولسونارو سابق صدر جائیر بولسونارو کے بیٹے ہیں اور برازیل کی سینیٹ کے رکن ہیں،ان کی امریکہ آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انتخابات کے نتائج، عدالتی تحقیقات اور دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات نے نئی بحث کو جنم دیا ہے
یہ معاملہ صرف ایک سیاست دان کی بیرون ملک روانگی تک محدود نہیں بلکہ برازیل کی داخلی سیاست، عدالتی کارروائیوں اور امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کے باہمی اثرات کو بھی نمایاں کرتا ہے





