راولپنڈی کچہری میں وکیل کا سول جج پر مبینہ حملہ، سر پر شیشے سے وار، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
پاکستان کے شہر راولپنڈی کی ضلع کچہری میں منگل 20 اکتوبر کو ایک وکیل کی جانب سے مبینہ حملے کے نتیجے میں سول جج شدید زخمی ہوگئے واقعہ عدالتی کمپلیکس میں پیش آیا، جہاں تلخ کلامی کے بعد وکیل نے مبینہ طور پر میز پر رکھا شیشے کا گلاس اٹھا کر جج کی طرف پھینک دیا، جس سے ان کے سر پر زخم آئے اور خون بہنے لگا پولیس نے واقعے کے بعد مشتبہ وکیل کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے
زخمی جج کو فوری طور پر بے نظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے سر کے زخموں پر 5 سے 6 ٹانکے لگائے پولیس ذرائع کے مطابق جج کا طبی اور قانونی معائنہ بھی کرایا گیا، جس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ جج کی حفاظت کے لیے اسپتال میں پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے
پولیس رپورٹ کے مطابق واقعے میں ملوث ہونے کا الزام وکیل اے این پر عائد کیا گیا ہے، تاہم مقدمے کی ایف آئی آر کو پولیس نے سیل کردیا ہے، جس کے باعث اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ تلخ کلامی کے بعد پیش آیا، لیکن تنازع کی مکمل نوعیت اور حملے کے محرکات کے بارے میں سرکاری سطح پر تمام تفصیلات جاری نہیں کی گئیں
اس واقعے نے عدالتی احاطوں میں ججوں، وکلا اور عدالتی عملے کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے عدالتیں قانون کی تشریح اور تنازعات کے فیصلے کے لیے قائم ہوتی ہیں، جہاں اختلافات کو قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اگر کسی فریق کو عدالتی فیصلے پر اعتراض ہو تو اس کے لیے اپیل اور دیگر قانونی راستے موجود ہیں عدالت کے اندر تشدد یا دھمکیوں کا استعمال عدالتی کارروائی اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے
دوسری جانب، راولپنڈی میں پولیس نے میونسپل لیبر یونین کے صدر راجا ہارون رشید کو 9 مئی کے تشدد سے متعلق ایک مقدمے میں بھی حراست میں لے لیا پولیس ذرائع کے مطابق انہیں تحصیل میونسپل انتظامیہ کے دفتر سے گرفتار کرکے مزید تفتیش کے لیے سٹی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ تاہم، یہ گرفتاری سول جج پر مبینہ حملے سے الگ معاملہ ہے
واقعے کی مکمل تحقیقات، متعلقہ شواہد کی جانچ اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ذمہ داری کا حتمی تعین ہوسکے گا ضروری ہے کہ عدالتی احاطوں میں تحفظ کے انتظامات بہتر بنائے جائیں اور ایسے واقعات میں قانون کے مطابق شفاف کارروائی کی جائے تاکہ ججوں، وکلا اور سائلین کو محفوظ ماحول میسر آسکے





