خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 26 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر لاپتا، 12 قومی اور 14 صوبائی ارکان کے بارے میں عدالت میں انکشاف
پاکستان میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد ارکان اسمبلی کی مبینہ گمشدگی کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے دعویٰ کیا کہ قومی اسمبلی کے 12 ارکان اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 14 ارکان کو اٹھایا گیا ہے ان کے مطابق ان ارکان کے اہل خانہ بھی ان کی موجودگی اور حالات کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں
یہ معاملہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آیا وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ صوبے کے غیر فعال قرار دیے گئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان حفاظتی حراست میں ہیں تاہم، دیگر ارکان اسمبلی کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہ آنے پر ان کی جماعت نے پارلیمنٹ اور عدالتوں سے رجوع کیا ہے
پیر کے روز قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان نے اپنے ساتھی ارکان کی ایوان میں پیشی کے لیے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی، جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھایا بنوں میں ایک پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی کو ان کے مدرسے سے گرفتار کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی، لیکن باقی ارکان کی موجودگی کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہوسکی
اس معاملے میں تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض ارکان اسمبلی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 11 اکتوبر سے پہلے ہی حراست میں تھے اگر کسی رکن کے خلاف فوجداری مقدمہ موجود ہے تو قانون کے مطابق اس کی تفصیلات سامنے لانا، اسے عدالت میں پیش کرنا اور اپنے دفاع کے لیے وکیل تک رسائی دینا ریاست کی ذمہ داری ہے کسی شخص کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک نامعلوم مقام پر رکھنا قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپوزیشن کے ارکان اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ گمشدگیوں کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم، کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مطلب یہ نہیں کہ شہریوں کے بنیادی حقوق خود بخود معطل ہوجائیں۔ آئین ہر پاکستانی کو قانونی کارروائی، منصفانہ سماعت اور اپنے دفاع کا حق دیتا ہے یہ حقوق صرف عام شہریوں تک محدود نہیں بلکہ منتخب نمائندوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں
ریاستی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کریں، ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور انہیں اپنے اہل خانہ اور اپنی پسند کے وکیل سے رابطے کی اجازت دیں طلال چوہدری پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات موجود ہیں تو انہیں چارج کیا جائے گا اور اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملتا تو انہیں رہا کردیا جائے گا اس لیے حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف پر عمل کریں
اس معاملے کا سیاسی پہلو بھی اہم ہے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنما اپنے سیاسی مخالفین کے دور حکومت میں ریاستی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرچکے ہیں ایسے تجربات کی روشنی میں حکمران اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قانونی حقوق اور جمہوری اصولوں کا تحفظ یقینی بنائے
بالآخر اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کسی منتخب رکن اسمبلی کو گرفتار کرتی ہے تو کیا اس کی گرفتاری اور مقام کے بارے میں معلومات فراہم کرنا، اسے عدالت میں پیش کرنا اور اس کے اہل خانہ کو آگاہ کرنا ضروری نہیں؟ جمہوری نظام میں جواب دہی صرف اپوزیشن یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کے تمام اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے ان ارکان کی فوری بازیابی، عدالت میں پیشی اور الزامات کی شفاف وضاحت ہی اس معاملے پر پیدا ہونے والی بے چینی کم کرسکتی ہے





