محمود خلیل کی قانونی جنگ سپریم کورٹ پہنچ گئی، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف اہم مقدمے میں نئی پیش رفت
کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حامی مظاہروں کے نمایاں رہنما محمود خلیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف اپنی قانونی جنگ میں سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے،ان کے وکلا نے پیر کو عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ ان کے مقدمے کی سماعت کرے،یہ مقدمہ فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کے خلاف حکومتی کارروائیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا ہے
محمود خلیل کو گزشتہ سال کئی ماہ تک حراست میں رکھا گیا تھا،ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی گرفتاری اور حراست فلسطینیوں کے حق میں ان کے سیاسی اظہار اور احتجاج کی وجہ سے تھی، جسے امریکی آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے
تاہم سپریم کورٹ میں دائر موجودہ درخواست کا براہِ راست سوال یہ نہیں کہ ان کی حراست سیاسی انتقام تھی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وفاقی عدالت کو انہیں رہا کرنے کا حکم دینے کا اختیار حاصل تھا یا نہیں، جب تک وہ امیگریشن نظام میں دستیاب قانونی راستے مکمل نہ کر لیں
محمود خلیل کے وکلا نے اپنی درخواست میں خبردار کیا ہے کہ اگر ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رہا تو حکومت کو اپنے ناقدین کی آواز دبانے کا ایک غیر معمولی اور طاقتور ذریعہ مل سکتا ہے،ان کے مطابق اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ بلکہ امریکی شہری بھی متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ لوگ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے خلاف حکومتی کارروائیوں کے خوف سے اظہارِ رائے سے گریز کرنے لگیں گے
امریکی سپریم کورٹ زیادہ تر درخواستوں کو سماعت کے لیے قبول نہیں کرتی،عدالت آنے والے مہینوں میں بند کمرے کے اجلاس میں فیصلہ کرے گی کہ محمود خلیل کی درخواست منظور کی جائے یا مسترد،ان کے وکلا کو امید ہے کہ مقدمہ عدالت کے موجودہ عدالتی دورانیے میں سماعت کے لیے مقرر ہو سکتا ہے
فی الحال محمود خلیل آزاد ہیں اور سپریم کورٹ کے آئندہ فیصلے تک ان کی آزادی برقرار رہے گی،اس مقدمے کا نتیجہ اس بات پر اثرانداز ہو سکتا ہے کہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران وفاقی عدالتوں کے اختیارات کی حدود کیا ہوں گی اور حکومتی اقدامات کے خلاف قانونی تحفظ حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی طلبہ کو کن مراحل سے گزرنا پڑے گا






