شہید فوجی کی آخری رسومات کی پوسٹ پر ہزاروں ہنستے چہرے، پاکستان میں فوج اور عوام کے درمیان بڑھتی خلیج کا تشویش ناک منظر
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک پوسٹ پر ہنسی کے ردعمل نے ایک نئی اور تشویش ناک بحث چھیڑ دی ہے،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ اور اس پر ہونے والے تبصروں کے حوالے سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جن میں وطن کے دفاع کے لیے جان دینے والے فوجی کی شہادت پر بھی لوگ ہنسی کا اظہار کر رہے ہیں
14 اکتوبر کو ریڈٹ پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں آئی ایس پی آر کی جانب سے فوجیوں کی آخری رسومات سے متعلق پوسٹ پر ہنسی کے ایموجیز کی بڑی تعداد کی نشاندہی کی گئی، اور ایسے کمنٹس کی تعداد بتیس ہزار سے زائد بتائ جاتی ہے ، اس کے بعد ہونے والی بحث میں بعض صارفین نے اس رویے کو افسوس ناک قرار دیا، جبکہ دوسرے صارفین نے اسے فوج اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور ادارے کے بارے میں پائی جانے والی ناراضگی کا اظہار قرار دیا،16 اکتوبر کو بھی اسی نوعیت کی بحث سوشل میڈیا پر جاری رہی
زیرِ گردش دعوے کے مطابق متعلقہ پوسٹ پر ہنسی کے ردعمل کی تعداد 32 ہزار تک پہنچ گئی،
اس واقعے نے ایک بنیادی سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے،کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد اس حد تک متاثر ہو چکا ہے کہ ایک فوجی کی موت بھی لوگوں کے سیاسی غصے کا اظہار بن رہی ہے؟
وطن کے دفاع میں جان دینے والے سپاہی اور افسر اپنے خاندانوں کے لیے بیٹے، بھائی، شوہر اور باپ ہوتے ہیں،ان کی شہادت پر طنز یا تمسخر ان کے اہلِ خانہ کے دکھ کو مزید گہرا کر سکتا ہے،دوسری طرف، اگر شہریوں کے ایک حصے میں فوج کے بارے میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے تو اس کے اسباب کو سمجھنے کے بجائے محض ردعمل کی مذمت کرنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں
اصل تشویش یہ ہے کہ سیاسی اختلاف، اداروں سے ناراضگی اور ریاستی پالیسیوں پر احتجاج کے دوران انسانی جان کی حرمت بھی متنازعہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے،فیصلہ سازوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ عوام کے ایک حصے میں پیدا ہونے والی اس تلخی کے اسباب کیا ہیں اور اعتماد کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں
کسی بھی ملک میں فوج اور عوام کا تعلق محض طاقت یا نعروں سے قائم نہیں رہتا،اس کی بنیاد اعتماد، جواب دہی، آئینی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کے احترام پر ہوتی ہے،اگر یہ بنیادیں کمزور ہوں تو اس کے اثرات صرف سیاسی مباحث تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی یکجہتی اور معاشرتی رویوں میں بھی دکھائی دینے لگتے ہیں






