Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نوجوان ووٹرز ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی سے منہ موڑنے لگے، مہنگائی، ملک بدری اور ایپسٹین فائلز نے حمایت کمزور کر دی

نوجوان ووٹرز ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی سے منہ موڑنے لگے، مہنگائی، ملک بدری اور ایپسٹین فائلز نے حمایت کمزور کر دی

امریکا میں 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب مائل ہونے والے نوجوان ووٹرز اب ان سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں،خاص طور پر نوجوان مردوں کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی سامنے آ رہی ہے، جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں بڑی تعداد میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، متعدد نوجوان ووٹرز اب ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی سے دور ہو رہے ہیں اور ایسے امیدواروں کی تلاش میں ہیں جو ان کی زندگی کو سستا اور معاشی حالات کو بہتر بنا سکیں
ریمی مارٹینیز کے لیے تارکین وطن کی ملک بدری ٹرمپ سے مایوسی کی بڑی وجہ ہے، مائیکل جانسن معیشت کی صورت حال سے ناخوش ہیں، جبکہ سوزانا برجز ایپسٹین فائلز اور ٹرمپ انتظامیہ کے ماحول میں خواتین کے خلاف تعصب کو اپنی ناراضگی کی وجوہات قرار دیتی ہیں،یہ تینوں نوجوان 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دے چکے ہیں، لیکن اب اپنے فیصلے پر پچھتاوا محسوس کرتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دیں گے یا ممکن ہے کہ انتخاب میں حصہ ہی نہ لیں
آئیووا کے شہر ڈیس موئنز میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والی کمپنی کے سیلز نمائندے 26 سالہ مائیکل جانسن نے کہا کہ وہ اس مرتبہ ریپبلکن امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکتے،ان کے الفاظ میں، ’’میں اس بار ریپبلکن پارٹی کی حمایت نہیں کر سکتا، اس مرتبہ ہرگز نہیں”
2024 کے انتخابات میں نوجوان مردوں کے 55 فیصد ووٹ ٹرمپ کے حصے میں آئے تھے،نیویارک ٹائمز اور سیئینا یونیورسٹی کے انتخابی جائزوں کے تجزیے کے مطابق، نوجوان مردوں کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت میں یہ تبدیلی غیر معمولی تھی، کیونکہ گزشتہ انتخابات میں نوجوان امریکیوں کی اکثریت عموماً ڈیموکریٹس کی حمایت کرتی رہی تھی،نوجوان خواتین میں بھی ریپبلکن پارٹی کی طرف جھکاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم ان کی تبدیلی نوجوان مردوں کے مقابلے میں اتنی نمایاں نہیں تھی
اب نوجوان ووٹرز کی ترجیحات میں دوبارہ تبدیلی کے آثار سامنے آ رہے ہیں،مہنگائی، روزمرہ اخراجات، تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں اور ٹرمپ انتظامیہ سے متعلق تنازعات ان کی ناراضگی کے اہم اسباب میں شامل ہیں،بہت سے نوجوانوں کے لیے پارٹی سے وابستگی کے مقابلے میں یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کون سا امیدوار ان کے لیے رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات برداشت کرنا آسان بنا سکتا ہے
نیویارک ٹائمز کی صحافیوں سبرینا ٹورنِس اور روتھ ایگلینک نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے دو درجن سے زیادہ نوجوان ووٹروں سے گفتگو کی،ان کے انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے بعض نوجوان اب اپنی سابقہ سیاسی پسند پر نظرثانی کر رہے ہیں،تاہم انفرادی انٹرویوز کو تمام نوجوان ووٹروں کی رائے نہیں سمجھا جا سکتا، اور آئندہ انتخابات میں ان کی حقیقی ترجیحات کا اندازہ ووٹنگ کے نتائج اور مزید انتخابی جائزوں سے ہی ہو سکے گا
امریکا کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل نوجوان ووٹروں کا رویہ دونوں بڑی جماعتوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے،اگر 2024 میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والے نوجوانوں کا ایک قابل ذکر حصہ ریپبلکن پارٹی سے دور ہوتا ہے تو انتخابی مقابلوں میں اس تبدیلی کی اہمیت بڑھ سکتی ہے،دوسری جانب، ڈیموکریٹس کے لیے بھی محض ٹرمپ سے ناراضگی کافی نہیں ہوگی،انہیں نوجوانوں کے معاشی مسائل کا قابل اعتماد حل پیش کرنا ہوگا تاکہ مایوس ووٹرز کی حمایت کو حقیقی انتخابی حمایت میں تبدیل کیا جا سکے

قومی خبریں سے مزید