Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اوپن اے آئی کے مسلمان انجینئر پر ایگزیکٹوز کی خفیہ میٹنگز ریکارڈ کرنے کا الزام، امریکی حکام نے گرفتار کر لیا

اوپن اے آئی کے مسلمان انجینئر پر ایگزیکٹوز کی خفیہ میٹنگز ریکارڈ کرنے کا الزام، امریکی حکام نے گرفتار کر لیا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے ایک انجینئر کو کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاسوں کی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ڈیوائس نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے،وفاقی استغاثہ کے مطابق، یہ آلہ کمپنی کے سان فرانسسکو ہیڈکوارٹر میں ایک ایسے کانفرنس روم میں چھپایا گیا تھا جہاں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، خفیہ تحقیق، نئی مصنوعات، کاروباری حکمت عملی اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر اہم گفتگو ہوتی تھی
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق، 35 سالہ سعودی شہری عبدالرحمٰن الفوازن کو 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا،وہ جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے،ان پر الیکٹرانک یا دوسرے آلات کے ذریعے لوگوں کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے یا اس کی کوشش کرنے کا وفاقی الزام عائد کیا گیا ہے،وہ منگل کو وفاقی عدالت میں ابتدائی پیشی کے بعد حراست میں ہیں،
استغاثہ کے مطابق، اوپن اے آئی کے ملازمین کو 30 ستمبر کو ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹیلی وژن کے پچھلے حصے میں نصب یو ایس بی پورٹ سے منسلک ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس ملی،یہ آلہ ٹشو پیپر میں چھپایا گیا تھا اور تفتیش کاروں کے مطابق اسے تقریباً 28 ستمبر کو نصب کیا گیا تھا،اس میں محفوظ مواد کو خفیہ کوڈ کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا
عدالتی شکایت کے مطابق، متعلقہ کانفرنس روم میں کمپنی کی خفیہ تکنیکی تحقیق، مصنوعات کے منصوبوں، کاروباری مواقع اور حکومتی اداروں کے ساتھ معاملات پر گفتگو ہوتی تھی،نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ میں الفوازن کو ڈیوائس ملنے سے پہلے متعدد مرتبہ اس کمرے کے قریب دیکھا گیا، حالانکہ انہیں وہاں داخل ہونے یا اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں تھی
استغاثہ کا مزید الزام ہے کہ الفوازن نے ڈیوائس نصب کیے جانے سے پہلے کمپنی کے اندرونی پیداواری نظام کے ذریعے عمارتوں کے پتے، کانفرنس رومز، اجلاسوں کے اوقات، اعلیٰ عہدیداروں کی مصروفیات اور بیرونی شراکت داروں کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں،حکام کے مطابق، ان کی اہلیہ سے منسلک ایک چیٹ بوٹ اکاؤنٹ سے بھی مسلسل آڈیو ریکارڈنگ کرنے والا آلہ تیار کرنے، اسے چھپانے، دور سے چلانے اور محفوظ شدہ مواد کو خفیہ رکھنے کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے؟استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ان سوالات میں بعد ازاں برآمد ہونے والی ڈیوائس کی مخصوص شناخت سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں
عدالتی دستاویزات کے مطابق، 5 اکتوبر کو الفوازن دوبارہ اسی کانفرنس روم میں داخل ہوئے اور ٹیلی وژن کے پیچھے دیکھتے ہوئے دکھائی دیے،اسی روز کمپنی کے سکیورٹی اہلکاروں کو ایک دوسرے کمرے میں ان کا لاوارث بیگ ملا، جس میں ان کے شناختی کاغذات اور بٹوے کے علاوہ پہلی ڈیوائس سے ملتا جلتا ایک اور ریکارڈنگ آلہ بھی موجود تھا
اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس نے خفیہ ڈیوائس دریافت ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو مطلع کیا اور تحقیقات میں تعاون کیا،کمپنی کے مطابق، اس نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کا تجزیہ بھی کیا،کمپنی نے یہ بھی کہا کہ فی الحال اس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ ملزم نے کمپنی کے بنیادی اے آئی ماڈلز، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی یا انہیں باہر منتقل کیا ہو
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس معاملے کو امریکی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق اہم قرار دیا ہے،امریکی استغاثہ کے مطابق، جرم ثابت ہونے کی صورت میں الفوازن کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان کی اگلی عدالتی سماعت 19 اکتوبر کو مقرر ہے
تاہم، ملزم کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے،ان کے وکیل نے بھی اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کرنے پر زور دیا ہے،تحقیقات جاری ہیں اور یہ واضح ہونا باقی ہے کہ مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس کے ذریعے کوئی گفتگو ریکارڈ کی گئی یا خفیہ معلومات کسی دوسرے فریق تک پہنچائی گئیں

قومی خبریں سے مزید