ریاض ایئرپورٹ پر مہلک حملوں سے پہلے سعودی وارننگ سسٹم خاموش کیوں رہا؟ 18 ہلاکتیں، 300 سے زائد زخمی، حکومتی حکمت عملی پر سوالات
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں میں کم از کم 18 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد سعودی حکومت کے فضائی خطرات سے آگاہ کرنے والے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حملوں سے چند روز قبل سعودی حکام نے عوام کو ممکنہ فوجی حملوں سے خبردار کرنے والے انتباہ جاری کرنا بند کر دیے تھے،گزشتہ ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر چار حملوں سے پہلے بھی عوام کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی،حکومت نے تاحال وضاحت نہیں کی کہ خطرے کے باوجود عوامی انتباہ کیوں جاری نہیں کیے گئے؟
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار مغربی اور عرب حکام اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتباہ کی عدم موجودگی نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت، شہریوں اور ملک میں موجود غیر ملکیوں کے تحفظ اور ممکنہ حملوں کے بارے میں بروقت اطلاع دینے کی حکومتی صلاحیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں، ان کے مطابق، یہ صورت حال ملک میں معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے اور عوام میں تحفظ کا احساس قائم رکھنے کی کوششوں کی بھی عکاسی کرتی ہے
سعودی عرب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،اس دوران حکومت کی کوشش رہی ہے کہ ملک کے اندر اور عالمی سطح پر استحکام اور معمول کی زندگی کا تاثر برقرار رہے،تاہم، حملوں سے قبل انتباہ کا جاری نہ ہونا اس حکمت عملی کے لیے ایک مشکل سوال بن گیا ہے، کیونکہ شہریوں کو خطرات سے آگاہ کرنا اور ان کی حفاظت یقینی بنانا کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے
رائٹرز کے مطابق، بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی حکومت ایک ہی وقت میں دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے،فوجی کارروائی جاری رکھنا اور عوام کو یہ اعتماد بھی دلانا کہ ملک میں حالات قابو میں ہیں،لیکن اگر خطرات کے بارے میں پیشگی اطلاعات عوام تک نہ پہنچیں تو یہ پالیسی شہری تحفظ اور حکومتی شفافیت کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر سکتی ہے
اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا انتباہ کی بندش کسی عملی یا تکنیکی مسئلے کا نتیجہ تھی، کسی مخصوص دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھی یا عوام میں خوف اور بے یقینی پھیلنے سے بچنے کی کوشش،سعودی حکومت کی جانب سے وضاحت سامنے آنے تک ان امکانات میں سے کسی ایک کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا،تاہم، مہلک حملوں کے بعد یہ معاملہ صرف فضائی دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی تحفظ، خطرات سے آگاہ کرنے کے نظام اور حکومتی جواب دہی کا اہم سوال بن گیا ہے




