پی ٹی آئی کی حکومت، پھر بھی اپنے ہی صوبے میں راستے بند: کیا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کی حدود میں ہی گھیر دیا گیا؟
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، وزیراعلیٰ بھی تحریک انصاف کے ہیں اور آج 4 اکتوبر کو اسی صوبے سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے،لیکن لانگ مارچ کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے جنوبی خیبر پختونخوا کی صورت حال نے ایک غیر معمولی سیاسی سوال کھڑا کردیا ہے،اگر صوبائی حکومت تحریک انصاف کی ہے تو پھر اس کے زیر انتظام علاقوں میں خود تحریک انصاف کے اعلان کردہ سیاسی مارچ کے راستے کیوں بند کیے جارہے ہیں؟
ڈی آئی خان ڈویژن کے چار اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اپر ساؤتھ وزیرستان اور لوئر ساؤتھ وزیرستان میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے آمدورفت اور مختلف قسم کی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی ہیں، بعض علاقوں میں پابندیاں کئی روز تک رہیں گی اور کچھ اطلاعات میں علاقے میں کرفیو کے نفاذ کے دعوے بھی کیے جارہے ہیں ،جبکہ ڈی آئی خان اور ٹانک میں مخصوص سڑکوں اور راستوں پر نقل و حرکت محدود کی گئی ہے
یہ محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ اس وقت سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف نے انہی جنوبی اضلاع سے اپنے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق لکی مروت کے گنڈی چوک سے آج دوپہر ایک بجے قافلہ روانہ ہوگا، جس میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے کارکن شامل ہوں گے
یعنی جس علاقے سے تحریک انصاف اپنا مارچ نکالنا چاہتی ہے، اسی علاقے میں انتظامیہ نے عین مارچ سے پہلے نقل و حرکت محدود کردی ہے
یہاں اصل سوال ’’کرفیو‘‘ سے بھی بڑا ہے
کیا خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے ہی صوبے میں انتظامی مشینری پر مکمل اختیار رکھتی ہے؟
اگر دفعہ 144 سکیورٹی وجوہات، دہشت گردی کے خطرات یا امن و امان کے خدشات کی بنیاد پر لگائی گئی ہے تو حکومت کے پاس اس کی قانونی وضاحت موجود ہے،جنوبی خیبر پختونخوا پہلے ہی سکیورٹی کے اعتبار سے حساس خطہ ہے اور انتظامیہ کا مؤقف بھی یہی ہے کہ پابندیاں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر لگائی گئی ہیں
لیکن سیاسی وقت انتہائی معنی خیز ہے
لانگ مارچ آج شروع ہونا ہے، حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں، اور اسلام آباد پہلے ہی کنٹینروں سے گھرا ہوا ہے،ایسے میں جنوبی خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ لازماً سیاسی سوال پیدا کرے گا، چاہے انتظامیہ کی سرکاری وجہ سکیورٹی ہی کیوں نہ ہو
یہ صورتحال اس تصور کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ موجودہ لانگ مارچ ایک ہمہ گیر قومی تحریک بن چکا ہے،دستیاب رپورٹس میں اس وقت عملی طور پر سب سے منظم اور واضح سرگرمی خیبر پختونخوا سے سامنے آرہی ہے،تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کا مارچ پشاور سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اس کے پہلے مرحلے کا تفصیلی شیڈول جنوبی اضلاع سے لکی مروت تک پہنچنے اور پھر قافلے کو آگے لے جانے کی صورت میں سامنے آیا
پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے ایسی ہی سطح کے بڑے قافلوں کی کوئی واضح، قابل اعتماد تصویر فی الحال سامنے نہیں آتی،البتہ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف کی سرگرمی مکمل طور پر خیبر پختونخوا تک محدود ہے،کراچی میں بھی تحریک انصاف کی سرگرمیوں کے دوران سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی رپورٹس سامنے آچکی ہیں، جبکہ کراچی سے شمال کی طرف جانے والے مال بردار ٹرکوں کے بارے میں تازہ رپورٹنگ بتاتی ہے کہ کنٹینرز کی ضبطی اور ممکنہ ناکہ بندیوں کے خوف سے ٹرانسپورٹرز نے سفر روک دیا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی احتجاج کی عملی طاقت اس وقت خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ نمایاں ضرور ہے، مگر اس کے اثرات پورے ملک میں پھیل رہے ہیں
اسلام آباد میں کنٹینر لگنے کی کہانی بھی صرف آج کی نہیں،رائٹرز کے مطابق حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں راستے بند کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز کے استعمال نے ملک کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام کو شدید متاثر کیا ہے،ستمبر میں 2,000 سے زیادہ گاڑیاں سرکاری استعمال کے لیے حاصل کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آئی، جبکہ کراچی کی بندرگاہ پر مال بردار کنٹینرز کا دباؤ بڑھ گیا ہے
یوں پاکستان میں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے
وفاق اسلام آباد کو بند کررہا ہے، پنجاب سے آنے والے راستوں پر رکاوٹیں ہیں، کراچی میں مال برداری متاثر ہے، اور اب تحریک انصاف کے زیر انتظام صوبے کے جنوبی اضلاع میں بھی انتظامیہ نے نقل و حرکت محدود کردی ہے
اگر حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو شاید یہ پورا منظرنامہ تبدیل ہوسکتا تھا،لیکن مذاکرات کے ڈیڈ لاک کے بعد دونوں طرف سے تیاری دوبارہ سڑکوں پر منتقل ہوگئی ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واضح کیا ہے کہ مارچ ہوگا، جبکہ حکومت پہلے ہی دارالحکومت کے داخلی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کرچکی ہے
یہاں ایک اور سیاسی تضاد سامنے آتا ہے
تحریک انصاف کہتی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی طاقت کے ساتھ اسلام آباد کی طرف بڑھے گی،وفاقی حکومت کہتی ہے کہ اسلام آباد کو کسی بھی قیمت پر احتجاج کے حوالے نہیں کیا جائے گا،لیکن درمیان میں خیبر پختونخوا کا عام شہری ہے، جس کے لیے یہ سیاسی جنگ سڑکوں کی بندش، ٹریفک کی مشکلات، کاروباری نقصان اور مسلسل غیر یقینی صورتحال میں تبدیل ہورہی ہے
اور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے
اگر ایک صوبے میں حکمران جماعت ہی احتجاج کررہی ہو اور اسی صوبے کی ضلعی انتظامیہ اسی احتجاج کے راستے محدود کررہی ہو تو پھر اصل اختیار کہاں ہے؟
کیا یہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ ہے؟ کیا ضلعی انتظامیہ وفاقی پالیسی اور سکیورٹی اداروں کے دباؤ میں فیصلے کررہی ہے؟ یا خود خیبر پختونخوا حکومت لانگ مارچ کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں؟
فی الحال ان سوالات کا قطعی جواب موجود نہیں،لیکن واقعات ایک بات ضرور بتا رہے ہیں،خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف کے پاس ہونے کے باوجود ریاستی مشینری کے تمام حصے ایک ہی سیاسی سمت میں نہیں چل رہے
یہی تضاد آنے والے دنوں میں لانگ مارچ کی اصل طاقت کا امتحان ہوگا
اگر جنوبی اضلاع سے قافلے نکلتے ہیں، لکی مروت سے آگے بڑھتے ہیں، کوہاٹ اور دیگر علاقوں سے بڑی تعداد شامل ہوتی ہے اور پھر پنجاب کی حدود عبور کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو یہ محض تحریک انصاف کا جلسہ نہیں رہے گا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان عملی اختیار کا امتحان بن جائے گا
لیکن اگر قافلہ خیبر پختونخوا ہی میں محدود رہتا ہے، بڑی تعداد میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے لوگ شامل نہیں ہوتے اور اسلام آباد تک پہنچنے سے پہلے ہی رکاوٹوں میں الجھ جاتا ہے تو پھر یہ سوال مزید مضبوط ہوگا کہ موجودہ لانگ مارچ دراصل قومی تحریک ہے یا خیبر پختونخوا کی سیاسی طاقت کا وفاق کے خلاف ایک محدود مظاہرہ؟
اور اس پوری لڑائی کا سب سے غیر معمولی پہلو یہی ہے کہ پاکستان کی ایک صوبائی حکومت، اپنی ہی جماعت کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے دوران، اپنے ہی انتظامی علاقوں میں راستوں کی بندش اور نقل و حرکت کی پابندیوں کے درمیان کھڑی ہے
سوال اب صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں،سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے ہی صوبے میں اپنی سیاسی طاقت کو عملی ریاستی اختیار میں تبدیل کر پائے گی؟





