Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خاران ڈپٹی کمشنر بازیاب، مگر عام شہریوں کے قتل اور اغوا پر سوالات برقرار

خاران ڈپٹی کمشنر بازیاب، مگر عام شہریوں کے قتل اور اغوا پر سوالات برقرار

خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو تقریباً 2 ہفتے تک اغوا کاروں کی تحویل میں رہنے کے بعد قبائلی عمائدین کی مداخلت اور مذاکرات کے نتیجے میں بحفاظت رہا کرالیا گیا انہیں گزشتہ ماہ نوشکی خاران شاہراہ پر لجا کے قریب مسلح افراد نے ان کے 3 ساتھیوں سمیت اغوا کیا تھا بعد میں ڈرائیور اور محافظ کو رہا کردیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر بدستور اغوا کاروں کے قبضے میں رہے
اس واقعے نے بلوچستان میں ایک اہم اور حساس سوال دوبارہ اٹھا دیا ہے کہ مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے والے عام شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھی کیا اسی سطح پر کوششیں کی جاتی ہیں جس طرح کسی اعلیٰ سرکاری افسر کی بازیابی کے لیے کی جاتی ہیں حالیہ برسوں میں بلوچستان میں عام شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کے اغوا اور قتل کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں بعض واقعات میں متاثرین کو شناخت کے بعد بسوں اور گاڑیوں سے اتار کر قتل کیا گیا
جولائی 2025 میں بلوچستان کے ژوب اور لورالائی کے درمیان 2 مسافر بسوں سے کم از کم 9 مسافروں کو اغوا کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مقتولین کا تعلق پنجاب سے تھا اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی
مارچ 2025 میں گوادر کے کلمت کے علاقے میں مسلح افراد نے ایک مسافر بس کو روک کر مسافروں کی شناخت کی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو مبینہ طور پر شناخت کے بعد قتل کردیا، جبکہ دیگر افراد کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں اسی واقعے کے دوران گوادر سے آنے والے مال بردار ٹریلرز کو بھی نذر آتش کیا گیا
2024 میں بھی بلوچستان میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات ہوئے جون 2024 میں ہرنائی کے زرغون کے علاقے میں مسلح افراد نے ایک پکنک مقام سے کم از کم 14 افراد کو اغوا کیا تھا اسی سال مئی میں گوادر کے قریب سربندن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 مزدوروں کو ان کی رہائش گاہ میں قتل کردیا گیا تھا
رواں سال جولائی میں بھی صورتحال کی سنگینی سامنے آئی جب ہنہ اورک کے علاقے میں حملے کے دوران 5 قبائلی افراد قتل اور 8 زخمی ہوئے جبکہ 11 افراد کو اغوا کرلیا گیا بعد میں قبائلی اور مذہبی عمائدین کے مذاکرات کے نتیجے میں تمام 11 مغویوں کو رہا کرایا گیا
اسی عرصے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے 11 مزدوروں کو کیچ اور خضدار سے اغوا کیا گیا، جن میں سے ایک کی لاش بھی برآمد ہوئی جولائی میں بارکھان میں پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مرید بگٹی بھی مسلح حملے میں ہلاک ہوئے
یہ واقعات اس بڑے سوال کو نمایاں کرتے ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کے تحفظ کا نظام کس حد تک مؤثر ہے ایک طرف ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور بڑی تعداد میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف عام شہریوں کے اغوا اور قتل کے واقعات وقفے وقفے سے جاری رہے ہیں دسمبر 2025 میں ایک صوبائی اعلیٰ افسر نے بتایا تھا کہ اس سال بلوچستان میں 280 شہری اور 202 سکیورٹی اہلکار مختلف حملوں اور کارروائیوں میں مارے گئے
خاران کے ڈپٹی کمشنر کی بحفاظت واپسی اس لحاظ سے اہم ہے کہ قبائلی عمائدین کے ذریعے مذاکرات سے ایک مغوی کی جان بچائی گئی، لیکن یہی طریقہ عام شہریوں کے لیے بھی قابل عمل اور مؤثر بنایا جانا ضروری ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ماضی کے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک عام مزدور، مسافر یا مقامی شہری کی جان کی حفاظت اور بازیابی کے لیے بھی وہی فوری اور مربوط کوششیں کی جاتی ہیں جو ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے اغوا کے بعد نظر آتی ہیں
بلوچستان میں امن صرف مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں سے نہیں بلکہ عام شہریوں کے جان و مال کے مؤثر تحفظ، اغوا کے واقعات کی روک تھام، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی سے بھی جڑا ہوا ہے انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بھی 2025 میں اپنی ایک رپورٹ میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور دیگر مسائل کو عوامی بے اعتمادی اور سیاسی عدم استحکام سے جوڑا تھا

قومی خبریں سے مزید