نئے سروے میں نصف سے زیادہ کینیڈین امریکہ کو خطرہ یا مخالف سمجھتے ہیں
کینیڈا میں 10,098 افراد پر کیے گئے ایک بڑے سروے میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ کے بارے میں کینیڈین عوام کی رائے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے سروے میں 51 فیصد افراد نے امریکہ کو کینیڈا کے لیے مخالف یا خطرہ قرار دیا جبکہ صرف 25 فیصد نے امریکہ کو دوست یا اتحادی قرار دیا
یہ صورتحال 2022 کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اس وقت 73 فیصد کینیڈین امریکہ کو اتحادی سمجھتے تھے جبکہ صرف 23 فیصد اسے خطرہ سمجھتے تھے موجودہ سروے کے مطابق امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے کینیڈا میں امریکہ کے بارے میں عوامی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے
سروے میں کینیڈین عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سامنے آئے۔ 60 فیصد افراد نے زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ اس کے بعد صحت کی سہولیات، معیشت اور روزگار، رہائش اور امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی اہم مسائل میں شامل رہے
معاشی صورتحال کے بارے میں بھی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ 45 فیصد کینیڈینوں نے کہا کہ وہ آج خود کو ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خراب مالی صورتحال میں محسوس کرتے ہیں صرف 17 فیصد نے کہا کہ وہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہیں، جبکہ 37 فیصد نے اپنی صورتحال کو تقریباً وہی قرار دیا 45 سے 54 سال عمر کے افراد میں منفی احساسات زیادہ نمایاں رہے، جہاں 52 فیصد نے خود کو پہلے سے بدتر حالت میں قرار دیا
سروے میں امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کو کینیڈا کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ قرار دیا گیا۔ 47 فیصد افراد نے امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کو سب سے سنگین خطرہ بتایا، جبکہ 38 فیصد نے نئی معاشی اور مالی بحران کے خطرے اور 32 فیصد نے امیگریشن کو اہم خطرات میں شمار کیا
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں بھی بڑی تعداد میں کینیڈین سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ آئندہ برسوں میں اہم رہے گا۔ 82 فیصد افراد نے کہا کہ اگلے وفاقی انتخابات تک امریکہ کے ساتھ تعلقات کا انتظام موجودہ دور جتنا یا اس سے بھی زیادہ اہم ہوگا، چاہے اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نہ بھی ہوں
سروے میں وزیر اعظم مارک کارنی اور لبرل حکومت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ 42 فیصد افراد نے کہا کہ لبرل حکومت پیش رفت کر رہی ہے اور کچھ اچھے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ 27 فیصد سے کچھ زیادہ افراد نے کہا کہ حکومت کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کرے گی اور وہ اسے جلد اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں
سروے کے مطابق توانائی اور قدرتی وسائل کے معاملے میں 71 فیصد کینیڈینوں نے ایسی حکومت کو ترجیح دی جو ملک کے قدرتی وسائل استعمال کرکے توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کرے، جبکہ باقی افراد نے زیادہ تر قدرتی وسائل محفوظ رکھنے کو ترجیح دی مغربی ساحل تک نئی آئل پائپ لائن کے منصوبے پر عوامی رائے تاہم مکمل طور پر یکساں نہیں تھی
یہ سروے برطانوی ادارے ایش کرافٹ پولز نے 31 جولائی سے 17 اگست 2026 کے دوران کیا، جس میں کینیڈا کے 10,098 بالغ افراد سے آن لائن رائے لی گئی اتنے بڑے نمونے کی بنیاد پر سروے میں غلطی کی ممکنہ شرح تقریباً 1 فیصد بتائی گئی ہے اس کے علاوہ 4 صوبوں میں 16 فوکس گروپس بھی کیے گئے جن میں 128 افراد شریک ہوئے





