بھارت اور نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 68 افراد ہلاک
بھارت کی ریاست اتر پردیش اور پڑوسی ملک نیپال میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے گزشتہ 3 دن کے دوران کم از کم 68 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتا ہیں اتر پردیش میں 56 افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ نیپال میں 12 افراد ہلاک اور 7 لاپتا ہیں
اتر پردیش میں جمعہ سے اتوار کی صبح تک 66.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس عرصے میں معمول کی بارش صرف 7.6 ملی میٹر ہوتی ہے حکام کے مطابق خلیج بنگال سے بننے والا کم دباؤ کا نظام اندرون ملک منتقل ہوا جس کے باعث کئی علاقوں میں غیر معمولی طور پر شدید بارش ہوئی
شدید بارش سے بڑے پیمانے پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور کسانوں کو آئندہ فصلوں کی بوائی میں تاخیر کا خدشہ ہے بھارت کے مرکزی آبی کمیشن کے مطابق 7 ریاستوں میں دریاؤں کی نگرانی کرنے والے 30 مقامات پر صورتحال سنگین ہے، جبکہ گنگا، گنڈک، کوسی، باگمتی اور نرمدا سمیت کئی بڑے دریاؤں میں پانی خطرے کی سطح سے اوپر پہنچ گیا ہے
ریاست اڑیسہ میں بھی دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد نشیبی علاقوں میں رہنے والے 70,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے شدید بارش سے پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے
نیپال میں 24 ستمبر سے مسلسل بارش کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے حکام کے مطابق 12 افراد ہلاک، 7 لاپتا اور 1,100 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ بعض مقامات پر مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے
نیپال پہلے ہی اگست میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہوا تھا، جس میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور ہزاروں افراد لاپتا ہوئے تھے موجودہ بارشوں نے ملک کے کئی ایسے علاقوں میں دوبارہ خطرات بڑھا دیے ہیں جہاں گزشتہ تباہی کے اثرات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں شدید بارشوں، سیلاب اور دیگر انتہائی موسمی واقعات میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جسے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا ہے





