برف کے نیچے ایک سو چھ سال بعد تاریخ کے سب سے پراسرار جہاز کا ملبہ دریافت، اصل راز تو اس کے بعد کھلا
انٹارکٹیکا کے برفیلے سمندر کی تہہ میں 106 سال سے دفن تاریخ کے ایک عظیم ترین بحری راز سے پردہ اٹھ گیا،سر ارنسٹ شیکلٹن کا مشہور جہاز Endurance، جو 1915 میں برف کے شکنجے میں پھنس کر ڈوب گیا تھا، بالآخر 2022 میں تقریباً 10,000 فٹ کی گہرائی میں بحیرہ وِڈیل سے دریافت کر لیا گیا
یہ صرف ایک ڈوبے ہوئے جہاز کی تلاش نہیں تھی،Endurance اس مہم کی علامت تھا جس میں شیکلٹن اور اس کے 27 ساتھی انٹارکٹیکا عبور کرنے کا خواب لے کر نکلے تھے، مگر شدید برف نے ان کا جہاز کئی ماہ تک اپنی گرفت میں رکھا،بالآخر برف کے بے پناہ دباؤ نے لکڑی کے جہاز کو کچل دیا اور نومبر 1915 میں Endurance سمندر کی تہہ میں اتر گیا
شیکلٹن اور اس کے ساتھیوں نے جہاز کھونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری،وہ برفانی تختوں، چھوٹی کشتیوں اور انتہائی خطرناک سمندری سفر کے ذریعے جان بچانے میں کامیاب ہوئے،حیرت انگیز طور پر اس پوری مہم کے تمام 28 افراد بالآخر زندہ بچ گئے، لیکن ان کا جہاز ایک صدی سے زیادہ عرصے تک سمندر میں گم رہا
پھر 106 سال بعد جدید زیرِ آب ٹیکنالوجی نے وہ کر دکھایا جسے کبھی تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا،Endurance22 مہم کے ماہرین نے خودکار زیرِ آب گاڑیوں اور جدید سائنسی آلات کی مدد سے سمندر کی تہہ میں جہاز کا سراغ لگا لیا،دریافت ہونے پر ماہرین حیران رہ گئے کہ شدید سرد اور برفیلے پانی نے لکڑی کے جہاز کو غیر معمولی طور پر محفوظ رکھا تھا،اس کے ڈھانچے، پیچ اور کئی اشیا آج بھی نمایاں حالت میں موجود ہیں
اور پھر ایک نیا راز سامنے آیا
صدی سے زیادہ عرصے تک سمندر کی تاریکی میں پڑا Endurance محض تاریخی ملبہ نہیں رہا بلکہ سمندری حیات کے لیے ایک مصنوعی مسکن بن چکا تھا،سائنس دانوں نے جہاز پر سمندری ستاروں، اسفنجز، انیمونز اور دیگر گہرے سمندر کی مخلوقات کی موجودگی ریکارڈ کی،یوں شیکلٹن کا تباہ شدہ جہاز ایک طرف انسانی تاریخ کا ناقابل یقین باب محفوظ کیے ہوئے تھا تو دوسری طرف سمندر کی اپنی ایک نئی دنیا کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا
Endurance کی دریافت نے ایک صدی پرانے سوال کا جواب تو دے دیا کہ جہاز کہاں گیا تھا، مگر اس کے بعد اس کے ملبے نے خود ایک نئی سائنسی کہانی شروع کردی،برف کے نیچے 106 سال تک محفوظ رہنے والا یہ جہاز آج شیکلٹن کی ناکام مہم کی یادگار سے بڑھ کر انسانی برداشت، قطبی تحقیق اور سمندر کی غیر معمولی قدرتی حفاظت کا زندہ ثبوت بن چکا





