باسکٹ بال کورٹ سے ICE کی حراست تک، سینیگالی کالج کھلاڑی امیناتا سیک کا معاملہ امریکی جامعات کے لیے بڑا سوال بن گیا
امریکی کالج باسکٹ بال کی سینیگالی کھلاڑی امیناتا سیک 7 اگست سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی ICE کی حراست میں ہیں، جہاں ان کا معاملہ اب صرف ایک غیرملکی طالب علم کی امیگریشن حیثیت تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی جامعات اور کالج کھیلوں کے نظام کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھا رہا ہے
گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق 26 سالہ امیناتا سیک کینٹکی اسٹیٹ یونیورسٹی کی خواتین کی باسکٹ بال ٹیم کی سینئر کھلاڑی ہیں،وہ 7 اگست کو اپنی ٹیم کے ساتھ نیویارک میں ہونے والے ایک ایچ بی سی یو باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے لوئس ول کے محمد علی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں تو ICE نے انہیں حراست میں لے لیا،وہ اس وقت گھٹنے کی انجری کے باعث بریس پہنے ہوئے تھیں
سیک کے وکیل کے مطابق حراست کے بعد انہیں کم از کم چار مختلف امیگریشن مراکز میں منتقل کیا گیا،وکیل کا کہنا ہے کہ سیک کو گھٹنے کی شدید تکلیف کے باوجود مناسب طبی سہولت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا اور انہیں سرجری کی ضرورت ہے،21 ستمبر کو انہیں گھٹنے کے درد کے علاج کے لیے ایک اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی کی ہے
ابتدائی طور پر سیک کے وکیل سادیقا رینالڈز نے بتایا تھا کہ ممکنہ طور پر کمر کی سرجری کے دوران طالب علم ویزا کی ایک آخری تاریخ گزر گئی تھی،تاہم بعد میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ سیک 2019 میں قانونی طور پر امریکا داخل ہوئی تھیں لیکن ان کے خلاف 8 ستمبر 2025 کو امیگریشن جج نے حتمی ملک بدری کا حکم جاری کیا، کیونکہ وہ ایک امیگریشن سماعت میں پیش نہیں ہوئی تھیں،سیک کے ایک اور وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو اس سماعت یا ملک بدری کے حکم کی اطلاع ہی نہیں ملی تھی اور قانونی ٹیم حکم دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے
کینٹکی اسٹیٹ یونیورسٹی نے رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے سیک کے معاملے پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ان کی کوچ امانی ولیمز کی جانب سے کھلاڑی کے لیے مسلسل کوششوں کی وکیل نے تعریف کی ہے
سیک گزشتہ سیزن میں کینٹکی اسٹیٹ کی اہم کھلاڑیوں میں شامل تھیں،انہوں نے فی میچ اوسطاً 11.7 پوائنٹس اور 7.3 ری باؤنڈز حاصل کیے اور انہیں آل ایس آئی اے سی تھرڈ ٹیم کے ساتھ ساتھ تعلیمی کارکردگی پر ایلیٹ 16 اعزاز بھی ملا تھا
یہ واقعہ اس بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے کہ امریکی جامعات جب بیرون ملک سے باصلاحیت طالب علم کھلاڑیوں کو بھرتی کرتی ہیں تو ان کی امیگریشن حیثیت، قانونی معاملات اور ہنگامی حالات میں ان کے تحفظ کی ذمہ داری کہاں تک جاتی ہے،سیک کا معاملہ اس بحث کو خاص طور پر نمایاں کر رہا ہے کیونکہ ایک جانب وہ یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والی باقاعدہ طالب علم اور کھلاڑی ہیں، جبکہ دوسری جانب وفاقی حکام ان کے خلاف جاری ملک بدری کے حکم کو بنیاد بنا کر انہیں حراست میں رکھے ہوئے ہیں





