Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر، سیاسی تصادم کا خطرہ برقرار

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر، سیاسی تصادم کا خطرہ برقرار

پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب اپنا مجوزہ لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا ہے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع کیا جائے گا اس فیصلے سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ فوری تصادم کا خطرہ کچھ عرصے کے لیے ٹل گیا ہے، تاہم سیاسی کشیدگی بدستور برقرار ہے
ڈان کے اداریے کے مطابق سہیل آفریدی، جو 37 سال کے ہیں، کو پارٹی کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے بڑی توقعات کا سامنا ہے ان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ وہ کام کریں گے جس میں ان سے پہلے زیادہ تجربہ رکھنے والے رہنما کامیاب نہیں ہو سکے دوسری جانب حکومت کی طرف سے بھی یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف مارچ کرتی ہے تو اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے
موجودہ صورتحال میں اصل خدشہ یہ ہے کہ ایک صوبے سے وفاقی دارالحکومت کی طرف سیاسی کارکنوں کا بڑا مارچ ایسے وقت میں ہو جب اسلام آباد میں پہلے ہی رکاوٹیں اور سکیورٹی انتظامات موجود ہوں اس صورت حال میں معمولی کشیدگی بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے اداریے میں دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے
پاکستان پہلے ہی طویل معاشی مشکلات اور علاقائی جنگ کے اثرات سے گزر رہا ہے ایسے ماحول میں ایک اور سیاسی تصادم ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے اداریے کے مطابق حکومت کو احتجاج کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کا احتجاج پرامن رہے
پی ٹی آئی کے لیے مارچ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ سیاسی مذاکرات کے لیے کچھ وقت فراہم کرتا ہے، لیکن 4 اکتوبر کی نئی تاریخ کے باعث تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس دوران کوئی قابل قبول سیاسی راستہ نہ نکلا تو اسلام آباد مارچ ایک بار پھر ملک میں شدید سیاسی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید