Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں دہشت گردی عروج پر، مگر پارلیمان اور قومی سلامتی کمیٹی خاموش کیوں؟

پاکستان میں دہشت گردی عروج پر، مگر پارلیمان اور قومی سلامتی کمیٹی خاموش کیوں؟

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں، مگر ملک کے جمہوری اداروں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے پر جس سطح کی مسلسل اور تفصیلی بحث ہونی چاہیے، وہ نظر نہیں آتی
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے 1,077 پرتشدد واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں 1,229 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 655 شہری ہلاک ہوئے۔ یہ 2014 کے بعد ملک کا سب سے خونریز سال قرار دیا گیا ہے۔ 2026 کے پہلے 9 ماہ میں بھی صورتحال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ 21 ستمبر تک دہشت گردی کے واقعات کی ماہانہ اوسط 118 رہی، جبکہ 2025 میں یہ اوسط 90 تھی۔ اسی عرصے میں سکیورٹی فورسز کی ماہانہ اوسط ہلاکتیں 102 سے بڑھ کر 114 اور شہریوں کی ہلاکتیں 55 سے بڑھ کر 74 ہو گئیں
مضمون کے مطابق پاکستان کی سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں دفاع اور داخلہ امور سے متعلق کئی قائمہ کمیٹیاں موجود ہیں، لیکن دستیاب ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ کمیٹیاں دہشت گردی میں اضافے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال پر باقاعدگی سے تفصیلی بحث کر رہی ہیں
2019 میں قومی اسمبلی کے اسپیکر نے سینیٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل قومی سلامتی کی مشترکہ کمیٹی قائم کی تھی، تاہم 2024 کے عام انتخابات کے بعد یہ کمیٹی بظاہر فعال نہیں رہی مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹیوں کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اہم فیصلوں پر منتخب نمائندوں کی نگرانی اور بحث یقینی ہو سکے
قومی سلامتی کمیٹی کا کردار بھی سوالات کی زد میں ہے یہ کمیٹی 2013 میں قائم کی گئی تھی اور اس میں وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شامل ہوتی ہے، لیکن مضمون کے مطابق 2026 میں اب تک اس کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا اس کے مقابلے میں برطانیہ کی قومی سلامتی کونسل وزیراعظم کی سربراہی میں ہر ہفتے اجلاس کرتی ہے
مضمون میں قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کو بھی زیادہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے مصنف نے تجویز دی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی پیش رفت سے متعلق کم از کم قابل اشاعت معلومات عوام، پارلیمان اور میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ قومی سلامتی کے معاملات میں عوام کا اعتماد بڑھایا جا سکے
اس تجزیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے فوجی، پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پارلیمان میں باقاعدگی سے خراج عقیدت پیش کرنے کی روایت ہونی چاہیے مصنف نے برطانوی پارلیمان کی مثال دی ہے جہاں وزیراعظم ہفتہ وار سوالات کے اجلاس کے آغاز پر کارروائی کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجیوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید