Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک کی ایک ڈنر میز پر پاکستان کے بارے میں تلخ سوالات، ’جب خود کو فریب دینے لگیں تو دنیا کو فریب دینا مشکل نہیں‘

نیویارک کی ایک ڈنر میز پر پاکستان کے بارے میں تلخ سوالات، ’جب خود کو فریب دینے لگیں تو دنیا کو فریب دینا مشکل نہیں‘

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے پاکستان سے آنے والے صحافیوں اور مقامی پاکستانی امریکی صحافیوں کی جمعرات کی شب ایک غیر رسمی ڈنر پر ملاقات ہوئی جہاں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ اقوام متحدہ، پاکستان کی سیاسی صورت حال، سرمایہ کاری کے دعووں اور بیرون ملک پاکستانی سفارتی سرگرمیوں پر خاصی بے تکلف اور تلخ گفتگو ہوئی،محفل میں پاکستان سے آئے بعض صحافیوں کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے بارے میں حتمی طور پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں کب کیا ہو جائے
گفتگو کے دوران جغرافیہ کے بدلتے رہنے کا ذکر آیا تو ایک پاکستانی صحافی سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کا جغرافیہ بھی بدل رہا ہے،صحافی نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، اس مختصر جواب نے محفل میں موجود لوگوں کو پاکستان کی موجودہ سیاسی اور ریاستی صورت حال پر مزید گفتگو کا موقع فراہم کیا، تاہم کسی نے اس معاملے پر کوئی حتمی دعویٰ کرنے سے گریز کیا
ڈنر کی گفتگو کا ایک بڑا حصہ وزیراعظم کے دورے کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری اور کاروباری ملاقاتوں پر مرکوز رہا،شرکاء نے سوال اٹھایا کہ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات، ریل اور دوسرے شعبوں میں پاکستانی حکام جن امریکی ماہرین، سرمایہ کاروں اور کمیونٹی نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، ان میں بار بار وہی محدود افراد کیوں نظر آتے ہیں
مقامی پاکستانی امریکی صحافیوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کسی پاکستانی سفارت کار یا سرکاری وفد کو نیویارک میں کاروباری برادری اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے ملاقاتیں کرنی ہوں تو کیا واقعی یہی لوگ پورے امریکی کاروباری منظرنامے کی نمائندگی کرتے ہیں جو تقریباً ہر سرمایہ کاری کانفرنس، کمیونٹی پروگرام اور ماہرین کی نشست میں موجود دکھائی دیتے ہیں
گفتگو میں بعض شرکاء نے اس صورت حال کو انتہائی سخت الفاظ میں ’مصنوعی نمائندگی‘ قرار دیا،سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر سفارتی سطح پر ہونے والی ایسی ملاقاتوں میں مبینہ طور پر حقیقی کاروباری افراد کے بجائے محدود اور پہلے سے ایک دوسرے کو جاننے والے افراد کو بار بار پیش کیا جا رہا ہے تو پاکستانی سفارت کاروں اور متعلقہ حکام کو اس کا علم کیوں نہیں ہوتا،بعض شرکاء نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستان کے متعلقہ ریاستی اور انٹیلی جنس ادارے اپنے حکام کو بیرون ملک ہونے والی ایسی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے
پاکستان سے آئے صحافیوں کی جانب سے جواب میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ پاکستانی حکام اور سفارتی نمائندے بھی ان افراد کو پہچانتے ہیں اور کئی معاملات میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کمیونٹی میں کون مصنوعی ذہانت، کون سرمایہ کاری اور کون کاروباری نمائندگی کے نام پر سامنے آ رہا ہے،گفتگو میں شریک بعض افراد نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ بعض افراد کے درمیان ذاتی سطح کے بھی ہیں،
ایک شریک نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ جب ایک نظام میں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہوں تو کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ حقیقت کیا ہے،محفل میں یہ رائے بھی سامنے آئی کہ پاکستانی حکمرانوں کو بیرون ملک اپنی نمائندگی کے لیے آنے والے سفارتی اہلکاروں کے بارے میں بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس نظام اور کس طاقت کے تحت کام کر رہے ہیں،
بحث اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ایک مبینہ کاروباری ملاقات کا ذکر آیا جس میں امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات کا تاثر دیا گیا تھا،شرکاء کے مطابق اس نشست میں نیویارک میں رہنے والے دو پاکستانیوں کو بھی کاروباری افراد کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ گفتگو میں ان کے حقیقی کاروباری پس منظر اور اس نمائندگی کی نوعیت پر سوالات اٹھائے گئے،ایک مقامی صحافی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم سے ملنے والے “ کاروباری افراد” خصوصی طور پر اعلیٰ سفارتی حکام سے ذاتی روابط رکھتے ہیں، اور اس حوالے سے نیویارک میں تعینات قونصلر جنرل تحائف وصول کرنے ، مہنگے ریسٹورانٹس میں کھانے اور تفریحی مقامات پر دوسرے کی جیب پر جانے کے لیے کمیونٹی میں خاص شہرت رکھتے ہیں
گفتگو میں یہ سوال بھی بار بار سامنے آیا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد کیا ہونا چاہیے، کیا مقصد پاکستان کے حقیقی معاشی امکانات، حقیقی سرمایہ کاروں اور حقیقی ماہرین کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے یا ایسی تقریبات منعقد کرنا ہے جن میں پہلے سے موجود محدود کمیونٹی چہروں کو مختلف شعبوں کے نمائندوں کے طور پر پیش کر دیا جائے
محفل میں شریک بعض صحافیوں نے پاکستان کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال کو اس حد تک مایوس کن قرار دیا کہ ان کے الفاظ میں ’پاکستان کا تجربہ مکمل ناکام ہو چکا ہے‘،
تقریب کے اختتام پر ہونے والی گفتگو کا خلاصہ ایک جملے میں یوں بیان کیا گیا کہ جب ایک ملک اسکے حکمراں اپنے آپ کو فریب دینا شروع کر دیں تو دنیا کو فریب دینے کی کوشش اس سے مختلف نہیں رہتی،شرکاء کے مطابق بیرون ملک ہونے والی نمائشی ملاقاتیں، مصنوعی کاروباری اجتماعات اور ایک ہی محدود حلقے کو بار بار مختلف شعبوں کا نمائندہ بنا کر پیش کرنے سے شاید وقتی طور پر ایک مثبت تصویر بنائی جا سکتی ہے، لیکن اس کے طویل المدتی نتائج سے وہ لوگ بھی واقف ہیں جو یہ سرگرمیاں منعقد کرتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو انہیں دیکھ رہے ہیں
نیویارک پاکستان سے آئے صحافیوں اور مقامی پاکستانی امریکن صحافیوں کے درمیان اس غیر رسمی محفل میں گفتگو کا مرکزی سوال یہی رہا کہ اگر پاکستان دنیا کے سامنے اپنی اصل معاشی، سیاسی اور ادارہ جاتی حقیقت پیش کرنے کے بجائے ایک مصنوعی تصویر پیش کرتا رہے تو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور پاکستانی کمیونٹی کے سامنے اس تصویر کی ساکھ آخر کتنی دیر برقرار رہ سکتی ہے؟

قومی خبریں سے مزید