آئی سی ای نے حراستی مراکز بڑھانے کی عجلت میں ٹیکس دہندگان کے کروڑوں ڈالر ضائع کر دیے، سرکاری نگران ادارے کی رپورٹ
واشنگٹن :امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے دوران تارکین وطن کو حراست میں رکھنے کی گنجائش تیزی سے بڑھانے کی کوشش میں ٹیکس دہندگان کے کروڑوں ڈالر ضائع کیے
سی بی ایس نیوز کے مطابق وفاقی اخراجات کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری کے ایک ہی دن ICE نے اتنی رقم خرچ کی جو ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں میں کسی ایک دن کا سب سے بڑا خرچ تھا
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان کے مطابق ICE نے حراستی مراکز کے حصول کے لیے شکاگو ٹائٹل انشورنس کو اربوں ڈالر کی رقم ایسکرو میں منتقل کی،اس کے بعد دو ماہ کے دوران ICE نے اس رقم میں سے 1.07 ارب ڈالر استعمال کرتے ہوئے 11 گودام خریدے، جنہیں بڑے حراستی مراکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا
تاہم ان 11 میں سے 7 گودام اب فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے،باقی رقم بھی کئی ماہ تک شکاگو ٹائٹل کے پاس پڑی رہی، کیونکہ ICE نے گوداموں کو حراستی مراکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا تھا
رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست میں ICE نے شکاگو ٹائٹل سے مزید 2.2 ارب ڈالر نکال کر چار حراستی مراکز خریدے،یہ مراکز نجی جیل کمپنی CoreCivic سے حاصل کیے گئے، جسے ICE ان مراکز کو چلانے کے لیے الگ سے ادائیگیاں بھی کرتا ہے
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ملک بھر میں تارکین وطن کی گرفتاری اور حراست کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافے کی کوشش کر رہی ہے ،سرکاری نگران ادارے کی جانب سے اخراجات کے جائزے نے ICE کی جانب سے اربوں ڈالر کی تیز رفتار منتقلی اور بعد میں منصوبوں میں تبدیلی پر سوالات اٹھا دیے ہیں






