اسلام آباد میں 3 سالہ بچی قتل
اسلام آباد میں 3 سالہ بچی کو اغوا کیے جانے کے بعد قتل کر دیا گیا پولیس کے مطابق بچی کی لاش بدھ کے روز ایک جنگل نما علاقے سے ملی، جو قریبی پولیس اسٹیشن سے تقریباً 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا جسمانی حالت کی بنیاد پر پولیس کو شبہ ہے کہ قتل سے پہلے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق فرانزک اور طبی رپورٹس کے بعد ہوگی
پولیس کے مطابق بچی منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے گلی میں کھیل رہی تھی جب وہ لاپتا ہوئی اس کی والدہ نے اسے تلاش کیا اور بعد میں پولیس سے رابطہ کیا، تاہم اغوا کی ایف آئی آر رات 11 بجے درج کی گئی، یعنی بچی کے لاپتا ہونے کے تقریباً 9 گھنٹے بعد۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 363 کے تحت درج کیا گیا
پولیس نے علاقے میں نصب کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جس میں ایک شخص کو بچی کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا پولیس کے مطابق اس شخص کی شناخت بچی کے بہنوئی کے طور پر ہوئی، جسے حراست میں لے کر تفتیش کی گئی
پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست شخص نے دوران تفتیش بچی کو قتل کرنے اور لاش جنگل نما علاقے میں پھینکنے کا اعتراف کیا پولیس اسے جائے وقوعہ پر لے گئی جہاں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی پولیس کے مطابق بچی کو کمر کے بیلٹ سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا
لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور مزید فرانزک ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے گئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بچی کو جنسی زیادتی یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں پولیس نے ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جہاں سے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا
واقعے کے بعد بچوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ایک مرتبہ پھر سامنے آئی ہے پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں اور انہیں سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے





