20 سال قبل بچے کی موت کا معمہ حل، ماں نے لاش چھپانے کا جرم مان لیا
اونٹاریو کے شہر برینٹ فورڈ میں 2005 میں ایک نومولود بچے کی لاش ملنے کے تقریباً 20 سال بعد اس کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ’’بیبی پارکر‘‘ کے نام سے پہچانے جانے والے بچے کی ماں نے عدالت میں بچے کی لاش ٹھکانے لگانے اور اسے چھپانے سے متعلق جرم کا اعتراف کر لیا ہے عدالت میں موجود خاتون اب 40 سال کی ہیں، جبکہ واقعے کے وقت ان کی عمر تقریباً 19 سال تھی
یہ کیس 28 جولائی 2005 کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک شہری کو ڈفرن ایونیو اور پارک سائیڈ ڈرائیو کے قریب پیدل چلنے کے راستے پر ایک مکمل مدت کے نومولود بچے کی لاش ملی۔ بچے کی شناخت نہ ہونے کے باعث پولیس نے اسے ’’بیبی پارکر‘‘ کا نام دیا تھا
پولیس نے اس کیس کی تحقیقات تقریباً 2 دہائیوں تک جاری رکھیں تفتیش کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے، لیکن کئی برس تک بچے کی ماں یا والد کی شناخت نہیں ہو سکی پولیس نے ماضی میں ایک خط کے کچھ حصے بھی جاری کیے تھے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ بچے کی ماں نے لکھا تھا، تاہم اس سے بھی کوئی حتمی سراغ نہیں ملا
فروری 2026 میں جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی اور ٹورنٹو پولیس کی معاونت سے تفتیش کار اس خاتون تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جسے بچے کی ماں قرار دیا گیا۔ پولیس نے اس وقت خاتون پر لاش کی بے حرمتی اور بچے کی لاش چھپانے کے الزامات عائد کیے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا اور مزید گرفتاریوں کی توقع نہیں تھی
تازہ عدالتی کارروائی میں خاتون نے جرم قبول کر لیا عدالت میں بتایا گیا کہ خاتون نے جرم قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان کے وکیل کے مطابق انہیں اس رات کے واقعات کی زیادہ تر تفصیلات یاد نہیں۔ سماعت کے دوران خاتون جذباتی بھی ہوئیں عدالت نے فی الحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ان کا نام عوام کے سامنے ظاہر کیا جائے گا یا نہیں
پولیس کے مطابق 2005 میں بچے کی ماں کی عمر کم ہونے اور حمل کو قریبی لوگوں سے چھپائے رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کئی سال تک پولیس نے عوام سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس کیس کو حل کرنے کے لیے جدید فرانزک طریقوں سے بھی مدد لی
اس کیس نے برینٹ فورڈ میں خاص توجہ حاصل کی تھی اور 2025 میں بچے کی تدفین کی 20 ویں برسی کے موقع پر بھی اسے یاد کیا گیا پولیس کے مطابق بچے کو 17 اگست 2005 کو سپرد خاک کیا گیا تھا تقریباً 2 دہائیوں تک اس کی شناخت ایک معمہ بنی رہی، یہاں تک کہ جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی نے تفتیش کو دوبارہ آگے بڑھایا





