اے آئی انسانوں کی نوکریاں کم کرے تو کام کے گھنٹے بھی کم ہونے چاہئیں، 4 روزہ ورک ویک کی نئی امریکی مہم
واشنگٹن: مصنوعی ذہانت اگر آنے والے برسوں میں لاکھوں ملازمتوں اور کام کے طریقوں کو تبدیل کرنے جا رہی ہے تو اس سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت کا فائدہ صرف بڑی ٹیک کمپنیوں اور ارب پتیوں کو نہیں بلکہ عام کارکنوں کو بھی ملنا چاہیے،اسی تصور کے تحت امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور رکنِ ایوان نمائندگان مارک تاکانو نے 32 گھنٹے کے ورک ویک کا قانون دوبارہ کانگریس میں پیش کیا ہے، جس کا مقصد مکمل تنخواہ اور مراعات برقرار رکھتے ہوئے معیاری کام کے ہفتے کو 40 سے کم کرکے 32 گھنٹے کرنا ہے
سینڈرز کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نئی ٹیکنالوجی امریکی معیشت کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کریں گی، اس لیے ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد کارکنوں کے حصے میں بھی آنے چاہئیں،ان کے مطابق اگر مشینیں انسانوں کے لیے زیادہ کام کریں گی تو اس کا نتیجہ صرف زیادہ منافع نہیں بلکہ انسانوں کے لیے زیادہ فارغ وقت بھی ہونا چاہیے
مجوزہ قانون کے تحت غیر مستثنیٰ کارکنوں کے لیے اوور ٹائم کی حد مرحلہ وار کم کرکے 32 گھنٹے کی جائے گی،تجویز کے مطابق پہلے سال یہ حد 38، دوسرے سال 36، تیسرے سال 34 اور چوتھے سال 32 گھنٹے تک لائی جائے گی،اس کے بعد 32 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پر اوور ٹائم لاگو ہوگا،تاہم یہ قانون ہر امریکی کارکن پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی لازماً ہر ملازمت کو ہفتے کے چار دن تک محدود کرے گا
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اے آئی کے باعث امریکی روزگار کے مستقبل پر شدید بحث جاری ہے،ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کارکنوں کی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے، جبکہ ناقدین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تیزی سے خودکار ہونے والی معیشت میں بہت سے موجودہ کام ختم یا تبدیل ہوسکتے ہیں،اسی پس منظر میں سینڈرز کا کہنا ہے کہ اے آئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دولت اور پیداواری فوائد کی تقسیم بھی سیاسی اور معاشی بحث کا حصہ ہونی چاہیے
امریکی قانون میں 40 گھنٹے کا موجودہ معیار تقریباً 86 سال سے بنیادی وفاقی معیار ہے،سینڈرز اور تاکانو کی تجویز اسی تاریخی معیار کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے،سینڈرز کے دفتر کے مطابق امریکی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت 1940 کی دہائی کے مقابلے میں 400 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ اوسط مکمل وقتی کارکن اب بھی ہفتے میں تقریباً 43 گھنٹے کام کرتا ہے
یہ معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں،بھارت کے میڈیا میں بھی یہ سوال نمایاں طور پر اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اے آئی کے دور میں بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کا مطلب انسانوں کے لیے کم کام اور زیادہ زندگی ہوگا یا صرف کمپنیوں کے لیے زیادہ منافع
سینڈرز کی یہ تجویز ان کی حالیہ اے آئی پالیسی مہم سے بھی جڑی ہوئی ہے،وہ ایک طرف جدید اے آئی کی ترقی پر سخت حفاظتی ضوابط اور عارضی وقفے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ اگر اے آئی امریکی معیشت کو بنیادی طور پر بدلتی ہے تو اس تبدیلی کا فائدہ کارکنوں کو بھی ملنا چاہیے
یوں اے آئی کے دور میں 40 گھنٹے کے روایتی امریکی ورک ویک کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا ہوگیا ہے،اگر مشینیں انسان کا کام کم کردیں تو کیا انسان کو بھی کم کام کرنا چاہیے، یا صرف کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھنی چاہیے؟






