حوثیوں کا سعودی ایف 15 طیارہ گرانے کا دعویٰ, سعودیہ نے مسترد کردیا
سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی بدھ کو مزید بڑھ گئی جب سعودی عرب نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کردیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یمن کے صوبہ مأرب کے اوپر ایک سعودی ایف 15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے
سعودی زیرقیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون مکہ کی سمت بڑھ رہا تھا اور اسے مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا،انہوں نے کہا کہ مکہ کی سلامتی سعودی عرب کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور حوثیوں کی جانب سے ایسے حملے کی صورت میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔ رائٹرز کے مطابق یہ 2017 کے بیلسٹک میزائل واقعے کے بعد مکہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی دوسری معروف کوشش ہے
حوثیوں نے سعودی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ڈرون مکہ کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا،اسی دوران حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقامی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نے مأرب کے اوپر سعودی فضائیہ کا ایف 15 طیارہ مار گرایا،
مکہ کے قریب ڈرون کا واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ سعودی عرب نے واضح طور پر مقدس شہر کی فضائی حدود کو سرخ لکیر قرار دیا ہے، جبکہ حوثیوں کا مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار اس واقعے کی نوعیت پر ایک واضح اختلاف پیدا کرتا ہے،اسی دوران سعودی جنگی طیارہ گرانے کے حوثی دعوے نے تنازعہ میں ایک اور خطرناک پہلو شامل کردیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے






