کیوبیک انتخابات میں ووٹرز کے بدلتے رجحانات، اقلیتی حکومت کے امکانات بڑھ گئے

کیوبیک انتخابات میں ووٹرز کے بدلتے رجحانات، اقلیتی حکومت کے امکانات بڑھ گئے

کیوبیک کے صوبائی انتخابات تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور تازہ انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز کی حمایت مختلف جماعتوں کے درمیان تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق کسی ایک جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے اور انتخابات کے بعد اقلیتی حکومت بننے کا امکان بھی سامنے آ رہا ہے
انتخابی تجزیہ کار فلپ جے فورنیئر کے مطابق تازہ جائزوں میں مختلف جماعتوں کے درمیان مقابلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو گیا ہے ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی خاص طور پر ان حلقوں میں اہم ثابت ہو سکتی ہے جہاں چند فیصد ووٹوں کا فرق نشست کا نتیجہ تبدیل کر سکتا ہے
کیوبیک کی صوبائی اسمبلی میں کل 125 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 63 نشستیں درکار ہوتی ہیں اگر کوئی جماعت 63 نشستوں کی حد تک نہ پہنچ سکی تو اسے اقلیتی حکومت بنانا پڑ سکتی ہے، جس میں قانون سازی کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگی
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں صرف مجموعی عوامی حمایت دیکھنا کافی نہیں بلکہ مختلف انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی تقسیم زیادہ اہم ہے کیوبیک میں بعض جماعتیں مجموعی ووٹوں میں مضبوط نظر آنے کے باوجود نشستوں کی تعداد میں اسی تناسب سے کامیابی حاصل نہیں کرتیں
تازہ جائزوں اور انتخابی اندازوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دو یا اس سے زیادہ جماعتوں کے درمیان معمولی فرق کئی نشستوں کے نتائج تبدیل کر سکتا ہے اسی وجہ سے انتخابی مہم کے تیسرے ہفتے میں جماعتوں کے لیے ہر حلقے میں ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنا انتہائی اہم ہو گیا ہے
فلپ جے فورنیئر کا 338 کینیڈا انتخابی ماڈل رائے شماری، گزشتہ انتخابی نتائج اور دیگر اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے ممکنہ نشستوں کا اندازہ لگاتا ہے اس طرح کے ماڈلز میں معمولی تبدیلی بھی حکومت سازی کی ممکنہ تصویر بدل سکتی ہے
انتخابات ابھی مکمل نہیں ہوئے، اس لیے موجودہ اعداد و شمار کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا تاہم تازہ رجحانات سے واضح ہے کہ کیوبیک میں مقابلہ سخت ہو رہا ہے اور اگر یہی صورتحال انتخاب کے دن تک برقرار رہی تو اکثریتی حکومت کے بجائے اقلیتی حکومت بننے کا امکان ایک اہم سیاسی منظرنامہ بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید