مسس ساگا اور برامپٹن میں 30 دن کے دوران 280 گاڑیاں چوری، شہریوں میں تشویش بڑھ گئی
مسس ساگا اور برامپٹن میں گاڑیوں کی چوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے تازہ پولیس اعداد و شمار کے مطابق صرف 30 دن کے عرصے میں دونوں شہروں سے مجموعی طور پر 280 گاڑیاں چوری کی گئیں، جس سے شہریوں میں اپنی گاڑیوں اور املاک کے تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے
گاڑیوں کی چوری کا مسئلہ پورے پیل ریجن میں ایک اہم جرائم کی شکل اختیار کر چکا ہے پولیس کے مطابق 2026 کے پہلے 6 ماہ میں پیل ریجن میں 2,790 موٹر گاڑیاں چوری ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں اگرچہ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے 3,089 واقعات کے مقابلے میں کم ہے، لیکن چوری ہونے والی گاڑیوں کی تعداد اب بھی ہزاروں میں ہے
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑیوں کی چوری میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت بڑا اضافہ ہوا تھا 2019 میں پیل ریجن میں 2,595 گاڑیاں چوری ہوئی تھیں، جو 2023 میں بڑھ کر 7,469 تک پہنچ گئیں 2023 میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 622 گاڑیاں چوری ہو رہی تھیں
پولیس نے حالیہ برسوں میں منظم آٹو کرائم گروپس کے خلاف کئی کارروائیاں بھی کی ہیں مارچ 2026 میں ایک کارروائی کے دوران مسس ساگا سے منسلک ایک منظم گروہ کے خلاف تفتیش کے نتیجے میں 13 چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 800,000 ڈالر سے زیادہ بتائی گئی اس کارروائی میں 2 افراد کو گرفتار کرکے مجموعی طور پر 55 فوجداری الزامات عائد کیے گئے پولیس کا کہنا تھا کہ 2026 میں گاڑیوں کی چوری گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم ہوئی ہے
پولیس کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض جرائم پیشہ گروہ رہائشی پارکنگ گیراجز کو نشانہ بناتے ہیں جولائی میں پولیس نے مسس ساگا میں ہورونٹیریو اسٹریٹ اور برنہیم تھورپ روڈ ایسٹ کے علاقے میں زیر زمین پارکنگ گیراجز میں گاڑیوں کی چوری اور چوری کی کوششوں سے متعلق کارروائی میں 2 مشتبہ افراد کی شناخت کی تھی تفتیش کے دوران موبائل فونز، گاڑیوں کی چابیاں، کلیدی پروگرامنگ ڈیوائسز اور دیگر سامان قبضے میں لیا گیا
گاڑی سے سامان چوری کرنے کے واقعات بھی ایک الگ بڑا مسئلہ بن رہے ہیں پولیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 7 ماہ میں گاڑیوں سے سامان چوری کرنے کے 2,884 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 1,899 تھی اس کا مطلب ہے کہ گاڑی چوری کے علاوہ گاڑیوں کو توڑ کر اندر سے قیمتی سامان لے جانے کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے
مسس ساگا میں حال ہی میں ایک ہی رات میں گاڑیوں سے سامان چوری کرنے کے کم از کم 32 واقعات بھی رپورٹ ہوئے یہ واقعات 3 ستمبر کی صبح تقریباً 3 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان الفا ملز روڈ، فالکنر ڈرائیو اور پلینز مین روڈ کے علاقوں میں پیش آئے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے گاڑیوں کی کھڑکیاں توڑیں یا غیر مقفل گاڑیوں میں داخل ہو کر قیمتی سامان چوری کیا ان واقعات میں گاڑیاں خود چوری نہیں کی گئیں بلکہ گاڑیوں کے اندر موجود سامان کو نشانہ بنایا گیا
پیل پولیس کا کہنا ہے کہ منظم آٹو کرائم کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور پولیس گاڑیوں کی نگرانی، لائسنس پلیٹ شناختی نظام، ویڈیو شواہد اور دیگر تفتیشی طریقوں کو استعمال کر رہی ہے پولیس کے مطابق مقصد صرف چوری شدہ گاڑیاں واپس حاصل کرنا نہیں بلکہ ان گروہوں کو بھی نشانہ بنانا ہے جو گاڑیوں کی چوری کو منظم انداز میں انجام دیتے ہیں
پولیس شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ گاڑی کو گھر کے باہر کھڑا کرتے وقت ممکنہ حد تک محفوظ مقام استعمال کریں، گاڑی کو غیر مقفل نہ چھوڑیں، گاڑی کے اندر قیمتی اشیا نہ رکھیں اور اضافی سکیورٹی اقدامات اختیار کریں شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی مشتبہ سرگرمی کا مشاہدہ کریں تو اسے فوری طور پر پولیس کو رپورٹ کریں
مسس ساگا اور برامپٹن میں 30 دن کے دوران 280 گاڑیوں کی چوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ 2026 میں مجموعی طور پر گاڑیوں کی چوری میں کمی آئی ہے، لیکن آٹو کرائم اب بھی پیل ریجن کے شہریوں کے لیے ایک بڑا سکیورٹی مسئلہ ہے





