وفاقی عدالت کا فیصلہ، ٹرمپ انتظامیہ کا مشی گن کوئلے کا پاور پلانٹ چلانے کا حکم کالعدم
امریکی وفاقی اپیل عدالت نے جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ کے اس حکم کو مسترد کر دیا جس کے تحت مشی گن کے ایک 64 سال پرانے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کو اس کی مقررہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چلانے کا حکم دیا گیا تھا
عدالت کے مطابق محکمہ توانائی نے J.H. Campbell Generating Plant کو جاری رکھنے کا حکم دے کر اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا،یہ پلانٹ ویسٹ اولیو، مشی گن میں واقع ہے اور اسے مئی 2025 میں بند کیا جانا تھا،پلانٹ کی مالک کمپنی کئی برس سے اس کی ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہی تھی، جبکہ مشی گن کے ریگولیٹرز اور علاقائی بجلی گرڈ آپریٹر بھی بندش کے منصوبے کی منظوری دے چکے تھے
پلانٹ کی بندش سے چند روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کے توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے اسے کم از کم موسم گرما کے اختتام تک چلانے کا حکم دیا تھا،انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موسم گرما میں بجلی کی طلب بڑھنے کے باعث پلانٹ بند ہونے سے وسط مغربی ریاستوں میں بجلی کی قلت اور بلیک آؤٹ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے
عدالتی فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بجلی کی ممکنہ قلت کے خدشے کے باوجود محکمہ توانائی کسی موجودہ قانونی اختیار سے باہر جا کر ایک ریٹائر ہونے والے پاور پلانٹ کو لازماً چلانے کا حکم نہیں دے سکتا





