Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں جان کی قیمت صرف4 لاکھ روپے۔

پاکستان میں جان کی قیمت صرف4 لاکھ روپے۔

کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق
شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ان 32 کوئلہ کان مزدوروں کے لواحقین نے 4 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کے طور پر دیے جانے والے چیک لینے سے انکار کردیا ہے جو 30 جولائی کو کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں دھماکے کے دوران جاں بحق ہوگئے تھے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کی جان کے بدلے دی جانے والی رقم انتہائی کم ہے
ورکرز ویلفیئر فنڈ بلوچستان کی جانب سے جمعہ کو ضلع کونسل ہال الپوری میں ایک تقریب کے دوران متاثرہ خاندانوں میں معاوضے کے چیک تقسیم کیے جانے تھے، تاہم 3 دیہات سے تعلق رکھنے والے جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں نے چیک لینے سے انکار کردیا اور تقریب میں صورتحال کشیدہ ہوگئی
متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے افضل الملک افغان نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان حکومت مزدوروں کو معاوضہ دینے کے بجائے بند کان دوبارہ کھولنے کی کوشش کررہی ہے ان کا کہنا تھا کہ 4 لاکھ روپے کی رقم دراصل غیر قانونی کان دوبارہ کھولنے کے معاملے سے جوڑی جا رہی ہے، اس لیے خاندان یہ چیک قبول نہیں کرسکتے
متاثرہ خاندانوں کے نمائندے نے کہا کہ شانگلہ کے غریب مزدوروں کو خطرناک کانوں میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور کان حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں ان کے مطابق کانوں میں حفاظتی اقدامات کی مبینہ غفلت اور سمجھوتوں کے باعث جان لیوا حادثات میں اضافہ ہورہا ہے
بعد ازاں شانگلہ کے ڈپٹی کمشنر عبداللہ خان اور رکن صوبائی اسمبلی رشاد خان نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی کہ مزدوروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے قانون سازی، پالیسی اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے اقدامات کیے جائیں گے
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ خاندانوں کو بارہا آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ چیک ورکرز ویلفیئر فنڈ کی جانب سے بھیجے گئے ہیں، تاہم خاندان پھر بھی ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار رہے ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں
حکام کے مطابق 32 خاندانوں کے معاوضے کے چیک ان کے پاس موجود ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ چیک متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جاسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید