22 سال سے منجمد ایمبریو سے 54 سالہ خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش، سائنس کی دنیا میں منفرد کامیابی
یونان میں 54 سالہ خاتون کرسٹینا راپتی زیلیپی نے 22 سال سے زائد عرصے تک منجمد رکھے گئے ایمبریو کے ذریعے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا ہے یہ ایمبریو اسی ابتدائی آئی وی ایف علاج کے دوران تیار ہوا تھا جس کے ذریعے خاتون نے 2004 میں اپنے بیٹے کو جنم دیا تھا
خاتون کے خاندان پر اس کامیابی کے ساتھ گہرے جذبات بھی وابستہ ہیں ان کا 21 سالہ بیٹا اکتوبر 2025 میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا بیٹے کی موت کے چند ماہ بعد خاندان نے 2004 میں محفوظ کیے گئے باقی ایمبریوز میں سے ایک کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا
یہ ایمبریو 17 مارچ 2004 کو منجمد کیا گیا تھا جبکہ اسے 23 دسمبر 2025 کو خاتون کے رحم میں منتقل کیا گیا۔ 9 ستمبر 2026 کو ایک صحت مند بچی کی پیدائش ہوئی جس کا وزن تقریباً 3.49 کلوگرام تھا طبی ٹیم کے مطابق ایمبریو کے منجمد کیے جانے سے بچی کی پیدائش تک 22 سال، 5 ماہ اور 23 دن کا عرصہ گزرا، جسے طبی لٹریچر میں ایک غیر معمولی طویل مدت قرار دیا جارہا ہے
خاتون نے بتایا کہ گھر میں غم اور خوشی دونوں جذبات موجود تھے لیکن جب انہوں نے اپنی نومولود بچی کو بازوؤں میں اٹھایا تو اس لمحے غم پر خوشی غالب آگئی ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ خاندان کو حمل مکمل کرنے کے لیے وقت کے خلاف دوڑ کا سامنا تھا کیونکہ یونان میں آئی وی ایف کے لیے قانونی عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 54 سال ہے
خاتون نے اسی عمر کی حد پر پہنچنے سے قبل علاج مکمل کیا اور متعلقہ اجازت حاصل کی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اتنے طویل عرصے تک محفوظ رہنے والا ایمبریو کامیابی سے حمل اور زندہ پیدائش کا سبب بنا
خاندان کے پاس اسی علاج کے مزید 9 ایمبریوز محفوظ ہیں اور وہ مزید بچے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم موجودہ قانونی پابندیوں کے باعث فی الحال ایسا ممکن نہیں۔ خاتون کے شوہر نے یونان میں آئی وی ایف کے لیے عمر کی قانونی حد ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
یونان میں شرح پیدائش کئی برس سے کم ہورہی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پیدائشوں کی تعداد میں 2,800 سے زیادہ کمی ہوئی، تاہم گزشتہ 20 برسوں میں 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں پیدائشوں کا تناسب بڑھا ہے
یہ واقعہ تولیدی طب میں محفوظ کیے گئے ایمبریوز کی طویل مدتی صلاحیت اور آئی وی ایف ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی ایک غیر معمولی مثال بن گیا ہے، جبکہ اس خاندان کے لیے یہ اپنے بیٹے کی المناک موت کے بعد زندگی میں دوبارہ امید اور خوشی کی واپسی بھی ہے





