Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، فی الحال توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں

مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، فی الحال توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں

اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت رکھتا ہے اور فی الحال اس میں مزید ممالک کو شامل کرنے یا اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے
دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے کوئی نیا فوجی اتحاد قائم کرنا۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کا دفاعی تعاون سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ تک محدود رہے گا
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو مزید وسیع کرتا ہے، جبکہ ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو تین ملکی دفاعی شراکت داری میں تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے
معاہدے کے تحت بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت کی صورت میں دیگر ممالک اس کی دفاعی مدد کریں گے۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں، خصوصاً سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں، اس شق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے سعودی عرب کو حالیہ دنوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے
پاکستان نے تاہم یہ تاثر مسترد کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی جارحانہ فوجی بلاک کی شکل اختیار کر رہا ہے دفتر خارجہ کے مطابق فی الحال معاہدے کو مزید ممالک تک پھیلانے کا معاملہ ایجنڈے پر نہیں، بلکہ توجہ موجودہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مؤثر بنانے پر ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ شراکت داری تینوں ممالک کو ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں، تجربے اور سکیورٹی تعاون سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے تاہم اس معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مستقبل میں کسی رکن ملک کو حقیقی فوجی خطرے کا سامنا ہونے کی صورت میں تینوں ممالک کس حد تک اور کس طریقے سے مشترکہ ردعمل دیتے ہیں

قومی خبریں سے مزید