اے ایف ڈی کی تاریخی کامیابی، جرمن شہر میگڈے برگ میں خوف اور سیاسی بے یقینی بڑھ گئی
جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، اے ایف ڈی، کی 44 فیصد ووٹوں کے ساتھ تاریخی کامیابی کے بعد ریاستی دارالحکومت میگڈے برگ میں شہریوں کے درمیان مستقبل کے حوالے سے خوف، تشویش اور سیاسی بے یقینی نمایاں ہوگئی ہے،ریاستی انتخابات میں اے ایف ڈی کی بھاری کامیابی نے نہ صرف برلن بلکہ پورے جرمنی میں سیاسی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے
گارڈین کی میگڈے برگ سے رپورٹ کے مطابق انتخابی نتیجے پر شہریوں کے ردعمل میں واضح تقسیم نظر آئی،88 سالہ یہودی پس منظر رکھنے والی پناہ گزین خاتون جوڈتھ نے اے ایف ڈی کی کامیابی کو ’’دل توڑ دینے والی‘‘ قرار دیا، جبکہ 71 سالہ ریٹائرڈ مکینک اور گرین پارٹی کے ووٹر فرانز یوزف نے نتیجے کو ملک کے نازی ماضی کے تناظر میں ’’تباہی‘‘ قرار دیا،34 سالہ بینک ملازمہ لوئیزا نے کہا کہ برلن کی معاشی ناکامی پر حکومت کو سیاسی جھٹکا دینا ایک بات ہے، لیکن اے ایف ڈی کے وعدوں پر عمل درآمد کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں اور ’’قیمت بہت بھاری ہوسکتی ہے‘‘
تاہم شہر میں اے ایف ڈی کے حامی بھی موجود ہیں،صفائی کا کام کرنے والی ڈورین نے اعتراف کیا کہ اس نے اے ایف ڈی کو ووٹ دیا،اس کے مطابق 2024 میں میگڈے برگ کے کرسمس مارکیٹ پر حملہ، جس میں 6 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس بات کی علامت تھا کہ جرمنی کی کھلی امیگریشن پالیسی نے ملک کو شدید مسائل سے دوچار کیا ہے،اس کا کہنا تھا کہ اے ایف ڈی نے ان مسائل کو ’’صاف کرنے‘‘ کا وعدہ کیا ہے
اے ایف ڈی کی کامیابی کا ایک اہم پہلو اس کا انتخابی منشور ہے،جماعت نے اقتدار سنبھالنے کی صورت میں پہلے 100 دن کے پروگرام میں جرمنی کی جنگ عظیم دوم کے بعد کی ’’یادداشت کی سیاست‘‘ کو تبدیل کرنے اور غیر باقاعدہ تارکین وطن کی ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے،جماعت کی قیادت کرنے والے ریاستی رہنما اولریش زیگمنڈ کے لیے اب اصل سوال یہ ہے کہ 44 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود وہ حکومت کیسے بنائیں گے، کیونکہ جماعت معمولی فرق سے سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی
اے ایف ڈی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ جرمن سیاست میں قائم وہ ’’فائر وال‘‘ ہے جس کے تحت مرکزی دھارے کی جماعتیں اس کے ساتھ اتحاد یا باقاعدہ تعاون سے گریز کرتی رہی ہیں،اے ایف ڈی کے ارکان اب کھلے عام اس فائر وال کو گرانے کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ یہ قیاس بھی جاری ہے کہ جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرسکتی ہے،سی ڈی یو نے تاہم کسی متوقع انحراف کی تردید کی ہے
انتخابی نتیجے نے وفاقی سیاست پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے،سیکسنی انہالٹ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 78 فیصد رہا، جو ریاست کے لیے ریکارڈ ہے، اور تقریباً ہر دو میں سے ایک ووٹر نے اے ایف ڈی کو ووٹ دیا،آئندہ 20 ستمبر کو میکلن برگ فورپومرن اور برلن میں ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ نتیجہ جرمنی کی بڑی جماعتوں کے لیے ایک اہم انتباہ بن گیا ہے
میگڈے برگ میں 16 سالہ شامی نژاد مریم نے گارڈین کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل سوچ رہی ہے،اس کے والد 2015 میں جرمنی آئے تھے، جبکہ وہ اور اس کی والدہ بعد میں وہاں پہنچے،مریم نے سابق چانسلر انجیلا مرکل کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے جرمنی کی واپسی چاہتی ہے جہاں اس کے خاندان کو موجودہ سیاسی تبدیلی کے بارے میں خوف محسوس نہ ہو
سیکسنی انہالٹ صرف 2.1 ملین آبادی والی ریاست ہے، لیکن اے ایف ڈی کی 44 فیصد کامیابی نے اسے جرمنی کی قومی سیاست کے مرکز میں پہنچا دیا ہے،اس نتیجے نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مرکزی دھارے کی جماعتوں کی جانب سے اے ایف ڈی کو اقتدار سے دور رکھنے کی حکمت عملی مزید کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ ریاستی سطح پر اے ایف ڈی پہلی مرتبہ حکومت سازی کے قریب پہنچ چکی ہے





