فٹرمن کی ریپبلکن کنونشن میں شرکت پر ڈیموکریٹس برہم، اپنی ہی جماعت میں سینیٹر کی مخالفت بڑھ گئی
واشنگٹن:پنسلوانیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فٹرمن کی ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن میں ویڈیو کے ذریعے شرکت اور ریپبلکن سینیٹر ڈیو میک کارمک کی تعریف نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ان کے خلاف پہلے سے موجود ناراضگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے
فٹرمن نے ریپبلکن اجتماع میں اپنے ویڈیو پیغام میں خود کو ’’کامن سینس ڈیموکریٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوشلزم اور سیاسی انتہا پسندی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر پنسلوانیا کی اسٹیل صنعت کے تحفظ کے لیے کام کریں گے،انہوں نے میک کارمک کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف بھی کی
اس اقدام پر پنسلوانیا کے ڈیموکریٹک حلقوں میں ردعمل خاصا سخت ہے،لیہائی کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ لوری میک فارلینڈ نے کہا کہ فٹرمن کو انتخابی مہم میں ساتھ لانا ڈیموکریٹس کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہوگا،ان کے مطابق کسی ڈیموکریٹ نے فٹرمن کی موجودگی کا مطالبہ نہیں کیا، مقامی کارکن ان سے ناراض ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فٹرمن نے پارٹی اور اپنے ووٹروں کے ساتھ ’’غداری‘‘ کی ہے
صورتحال کی شدت کا اندازہ حالیہ رائے شماری سے بھی ہوتا ہے،اگست میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق پنسلوانیا کے صرف تقریباً 20 فیصد رجسٹرڈ ڈیموکریٹس فٹرمن کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ 2024 میں یہ شرح 74 فیصد تھی،اس کے برعکس پنسلوانیا کے ریپبلکن ووٹروں میں فٹرمن کی مقبولیت بڑھ کر تقریباً 73 فیصد تک پہنچ گئی ہے
فٹرمن گزشتہ دو برسوں میں اپنی جماعت کی قیادت اور بائیں بازو کے ڈیموکریٹس سے مسلسل اختلاف کرتے رہے ہیں،اسرائیل کے معاملے پر ان کا مؤقف، صدر ٹرمپ کی بعض پالیسیوں کی حمایت اور ڈیموکریٹک پارٹی میں سوشلزم اور بائیں بازو کے بڑھتے اثر پر تنقید نے انہیں اپنی ہی جماعت کے ایک بڑے حصے سے دور کر دیا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ فٹرمن کی ریپبلکن اجتماع میں شرکت کو محض ایک وقتی سیاسی اشارہ نہیں سمجھا جا رہا،ان کی جماعت میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ وہ مستقبل میں پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، اگرچہ فٹرمن نے اب تک ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا
اس صورتحال نے 2028 میں فٹرمن کی اپنی سینیٹ نشست کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں،پنسلوانیا کے ڈیموکریٹک حلقوں میں ان سے بڑھتی دوری اور ریپبلکن ووٹروں میں ان کی بڑھتی مقبولیت اس بات کی علامت ہے کہ فٹرمن اب اپنی جماعت کے روایتی انتخابی دھارے سے نمایاں طور پر الگ ہو چکے ہیں





