میسوری کے ریپبلکن نقشے پر قانونی جنگ سپریم کورٹ پھر پہنچ گئی، نومبر کے انتخابات سے قبل شدید ابہام
سینٹ لوئیس:میسوری میں کانگریس کے انتخابی اضلاع کی نئی حلقہ بندی پر قانونی جنگ ایک بار پھر امریکی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے،بدھ کو وفاقی اپیل عدالت نے اس حکم کو روکنے سے انکار کر دیا جس کے تحت نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی حمایت یافتہ نیا انتخابی نقشہ استعمال کیا جانا ہے،اب اس نقشے کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے مسترد کرانے کی کوشش کرنے والے منتظم رچرڈ وان گلان نے سپریم کورٹ سے دوبارہ مداخلت کی درخواست کی ہے
تنازعہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب میسوری کی سپریم کورٹ نے 3 ستمبر کو متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ 2025 میں ریپبلکن اکثریتی ریاستی مقننہ کی منظور کردہ نئی حلقہ بندی اس وقت تک نافذ نہیں ہوسکتی جب تک نومبر میں ووٹرز اسے ریفرنڈم کے ذریعے منظور نہ کریں،عدالت نے پرانے 2022 کے نقشے کو قانونی طور پر نافذ قرار دیتے ہوئے نئے نقشے کے استعمال سے روک دیا تھا
اس نقشے کے مخالفین نے 300,000 سے زیادہ دستخط جمع کرا کے ریفرنڈم کی راہ ہموار کی تھی،نئی حلقہ بندی میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایمانوئل کلیور کے موجودہ حلقے کو خاص طور پر تبدیل کیا گیا ہے، جس سے ریپبلکنز کو میسوری کی 8 رکنی ایوان نمائندگان کی نشستوں میں 7 پر کامیابی کی پوزیشن حاصل ہونے کا امکان پیدا ہوا تھا
لیکن اسی دوران ایک وفاقی عدالت نے الگ مقدمے میں نیا نقشہ استعمال کرنے کا حکم دے دیا،وفاقی جج اسٹیفن کلارک کا مؤقف تھا کہ چونکہ اگست میں پرائمری انتخابات پہلے ہی اسی نئے نقشے کے تحت ہوچکے ہیں، اس مرحلے پر نقشہ تبدیل کرنے سے ووٹروں اور انتخابی انتظامیہ میں مزید الجھن پیدا ہوگی،اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی، مگر بدھ کو وفاقی اپیل عدالت نے اسے روکنے سے انکار کردیا
یوں ایک ہی وقت میں ریاستی اور وفاقی عدالتی احکامات ایک دوسرے سے متصادم نظر آ رہے ہیں،میسوری کی سپریم کورٹ کہتی ہے کہ ریفرنڈم تک نیا نقشہ استعمال نہیں کیا جاسکتا، جبکہ وفاقی عدالتی حکم نومبر کے انتخابات کے لیے اسی نقشے کو برقرار رکھتا ہے،اسی تضاد کے باعث انتخابی حکام کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ عام انتخابات میں کون سا نقشہ استعمال ہوگا
یہ معاملہ صرف میسوری تک محدود نہیں بلکہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک بھر میں جاری وسط مدتی حلقہ بندی کی وسیع تر سیاسی اور قانونی جنگ کا حصہ بن چکا ہے،نومبر کے انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، جبکہ بیرون ملک اور فوجی ووٹروں کے بیلٹ بھی جلد بھیجے جانے ہیں، جس نے اس قانونی تنازعہ کو مزید فوری نوعیت دے دی ہے
فی الحال حتمی نقشہ طے نہیں ہوا اور معاملہ ایک بار پھر امریکی سپریم کورٹ کے سامنے ہے





