Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

16 سال سے کم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست، وفاقی آئینی عدالت سے کارروائی کا مطالبہ

16 سال سے کم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست، وفاقی آئینی عدالت سے کارروائی کا مطالبہ

16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے غیر محدود استعمال سے بچانے کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں عدالت سے حکومت کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا مؤثر قانونی پابندیاں عائد کی جائیں، عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے اور بچوں کو سائبر ہراسانی، نامناسب مواد، آن لائن جنسی استحصال اور سوشل میڈیا کی لت جیسے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں
درخواست لاہور رجسٹری میں 2 وکلا شیراز ذکا اور معین اختر کی جانب سے دائر کی گئی ہے درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بچے ایسے ڈیجیٹل ماحول کا سامنا کررہے ہیں جہاں سائبر ہراسانی، مسلسل سوشل میڈیا استعمال کی عادت، جنسی نوعیت کے مواد اور شراب کی تشہیر جیسے مواد تک آسان رسائی بچوں کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما کو متاثر کرسکتی ہے
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایسا مخصوص قانون موجود نہیں جو 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہو یا تمام پلیٹ فارمز کے لیے لازمی عمر کی تصدیق کا نظام مقرر کرتا ہو۔ درخواست گزاروں نے موجودہ سائبر جرائم کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے ایسی مخصوص پابندی موجود نہیں
درخواست گزاروں نے آسٹریلیا، اٹلی اور برازیل سمیت ان ممالک کی مثالیں بھی پیش کی ہیں جہاں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں بھی عمر کی تصدیق، والدین کے اختیار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری سے متعلق واضح قانونی نظام بنایا جاسکتا ہے
درخواست میں ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر بچوں کے لیے نامناسب مواد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ متعلقہ نگران ادارہ اپنے ضابطہ اخلاق پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں کراسکا، جس کے باعث ایسے ڈراموں اور اشتہارات کی نشریات کا معاملہ سامنے آتا ہے جن میں بچوں کے دیکھنے کے اوقات کے دوران نامناسب مناظر یا شراب کی عکاسی شامل ہوتی ہے
درخواست گزاروں نے بچوں کی تعلیم کے بحران کو بھی سوشل میڈیا کے معاملے سے جوڑا ہے درخواست میں تقریباً 25 ملین بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں بچوں کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور محفوظ ماحول ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے
درخواست میں آئین کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ زندگی، انسانی وقار، مساوات، تعلیم اور خاندان کے تحفظ سے متعلق بنیادی حقوق بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے تقاضے عائد کرتے ہیں درخواست گزاروں نے بچوں کے حقوق سے متعلق عالمی معاہدے اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے
درخواست میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ سائبر جرائم کے قانون میں ترمیم کرکے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کیا جائے اور عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اس کے علاوہ متعلقہ نگران ادارے کو بچوں کے ٹیلی ویژن دیکھنے کے اوقات میں مواد سے متعلق اپنے ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے
درخواست گزاروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر والدین کے لیے نگرانی اور تحفظ کے نظام قائم کرنے، بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کرنے اور اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی بھی درخواست کی ہے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب اسمبلی بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قرارداد منظور کرچکی ہے اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن جنسی استحصال اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے قانون سازی اور عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام بنانے کی سفارش کی گئی تھی
دنیا کے کئی ممالک میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے پر بحث تیز ہوگئی ہے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کے خلاف پابندیوں کا نظام نافذ ہوچکا ہے، جبکہ کئی یورپی ممالک اور دیگر حکومتیں عمر کی تصدیق، والدین کے اختیار اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے نئے قوانین پر غور کررہی ہیں
تاہم بچوں کے تحفظ کے ساتھ ایک دوسرا اہم سوال بھی موجود ہے کہ عمر کی تصدیق کس طریقے سے کی جائے گی اور اس عمل میں بچوں اور والدین کی ذاتی معلومات اور رازداری کو کیسے محفوظ رکھا جائے گا اگر عمر کی تصدیق کے لیے شناختی دستاویزات یا دیگر حساس معلومات استعمال کی جائیں تو اس ڈیٹا کے غلط استعمال اور غیر ضروری نگرانی سے بچانے کے لیے بھی واضح قانونی ضمانتیں ضروری ہوں گی
اس درخواست کا مطلب یہ نہیں کہ وفاقی آئینی عدالت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی ہے فی الحال عدالت کے سامنے پابندی، عمر کی تصدیق اور بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی درخواست موجود ہے حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی اور حکومت و متعلقہ اداروں کے مؤقف سامنے آنے کے بعد ہوگا
پاکستان میں اس معاملے پر اصل بحث اب یہ ہے کہ بچوں کو سائبر جرائم، ہراسانی، جنسی استحصال اور نقصان دہ مواد سے کس طرح محفوظ رکھا جائے، جبکہ ان کی تعلیم، معلومات تک رسائی، اظہار اور رازداری کے حقوق بھی متاثر نہ ہوں مؤثر نظام صرف مکمل پابندی تک محدود رہنے کے بجائے عمر کی تصدیق، والدین کی نگرانی، پلیٹ فارمز کی ذمہ داری، نقصان دہ مواد کے خلاف کارروائی اور بچوں کی ڈیجیٹل تعلیم جیسے تمام پہلوؤں کو شامل کرسکتا ہے

قومی خبریں سے مزید