Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیپال میں گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پہلے غیر معمولی گرمی، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر نئی تشویش

نیپال میں گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پہلے غیر معمولی گرمی، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر نئی تشویش

نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب کا سبب بننے والے گلیشیئر کے ٹوٹنے سے چند روز قبل پہاڑی علاقے میں سال کے اس وقت کے لحاظ سے غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ موسمیاتی اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 21 سے 26 اگست کے دوران تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کے مقام پر اوسط درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا
یہ درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ گزشتہ 55 سال سے زیادہ کے ریکارڈ میں اسی عرصے کے دوران وہاں درجہ حرارت کبھی 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں گیا تھا۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ شدید گرمی براہ راست گلیشیئر کے ٹوٹنے کا سبب بنی
یہ تجزیہ کیلیفورنیا میں قائم آزاد موسمیاتی ادارے برکلے ارتھ کے سربراہ سائنس دان رابرٹ روڈ نے کیا ان کے مطابق اس مقام پر 21 سے 26 اگست کے دوران اوسط درجہ حرارت 20ویں صدی کے وسط کے مقابلے میں تقریباً 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے
رابرٹ روڈ کے حساب سے اگر موسمیاتی تبدیلی کے باعث اضافی گرمی موجود نہ ہوتی تو اس نوعیت کا درجہ حرارت چند ہزار سال میں صرف ایک مرتبہ دیکھنے میں آتا۔ ان کے مطابق یہ غیر معمولی گرمی اس تباہی میں موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ کردار کی طرف اہم اشارہ فراہم کرتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی سے پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے جبکہ مستقل جمی ہوئی مٹی اور چٹانوں کے درمیان موجود برف بھی پگھلنے لگتی ہے۔ مستقل جمی ہوئی تہہ پہاڑی چٹانوں کو ایک طرح سے مضبوطی فراہم کرتی ہے، اس کے کمزور ہونے سے چٹانی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہوسکتی ہیں
سیٹلائٹ تصاویر سے بھی معلوم ہوا ہے کہ تباہی سے پہلے کے دنوں میں علاقے میں برف تیزی سے پگھل رہی تھی ماہرین کے مطابق پگھلنے والا پانی پہاڑ کی دراڑوں میں داخل ہوکر چٹانوں کو کمزور کرسکتا ہے اور مٹی یا چٹانوں کے بڑے تودے کے اچانک کھسکنے میں کردار ادا کرسکتا ہے
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف زیادہ درجہ حرارت کو گلیشیئر کے ٹوٹنے کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا ممکن ہے کہ پہاڑی نظام پہلے ہی ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکا ہو اور شدید گرمی، برف پگھلنے اور زمین کے اندر پانی کے داخل ہونے نے صرف آخری محرک کا کردار ادا کیا ہو
26 اگست کو گلیشیئر کے ٹوٹنے سے برف، چٹانوں، کیچڑ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں دریائی راستوں کی طرف بڑھا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی متعدد دیہات، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ ہلاک یا لاپتا ہوئے
سیلابی ریلے نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کئی منصوبوں کی سرنگوں کے داخلی راستے ملبے اور کیچڑ سے بند ہوگئے، جس کے باعث بڑی تعداد میں کارکن اندر پھنس گئے امدادی ٹیمیں اب بھی مختلف سرنگوں میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں
اس واقعے نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، مستقل جمی ہوئی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کو زیادہ غیر مستحکم بنا رہا ہے، جس سے اچانک سیلاب، برفانی تودوں اور چٹانی تودوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں
تحقیق کار اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تباہی سے پہلے پہاڑ کی حرکت میں آنے والی تبدیلیاں، برف پگھلنے اور درجہ حرارت میں اضافے نے ایک دوسرے کو کس حد تک متاثر کیا اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ شدید گرمی نے چٹانوں اور گلیشیئر کے بنیادی حصے کو نمایاں طور پر کمزور کیا تھا تو یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی اور پہاڑی آفات کے درمیان تعلق کا ایک اہم ثبوت بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید