Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نئے صوبوں کے قیام پر بحث تیز، انتظامی تقسیم کا معاملہ سیاسی تنازع بن گیا

نئے صوبوں کے قیام پر بحث تیز، انتظامی تقسیم کا معاملہ سیاسی تنازع بن گیا

ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرگئی ہے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے عوامی رائے حاصل کرنے کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے، سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے کہ ملک کے موجودہ صوبائی نظام میں تبدیلی کس طریقے سے اور کن مقاصد کے تحت کی جائے گی
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ملک میں کوئی نیا موضوع نہیں پنجاب میں جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے کا مطالبہ، سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بحث اور دیگر علاقوں میں انتظامی یونٹس بنانے کی تجاویز مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہیں۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام چلانا مشکل ہے اور چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کو سرکاری اداروں، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوسکتی ہے
دوسری جانب سندھ میں اس معاملے کو انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم یا صوبے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی ہے سندھ کی سیاسی جماعتوں کے ایک بڑے حصے کا مؤقف ہے کہ انتظامی مسائل کا حل صوبے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ اختیارات کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا ہے
ملک کے موجودہ نظام میں اختیارات کا بڑا حصہ صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دور دراز اضلاع کے شہریوں کو معمولی سرکاری کاموں کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔l تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکوں، نکاسی آب اور روزگار کے مسائل بھی کئی علاقوں میں اس لیے برقرار رہتے ہیں کہ مقامی اداروں کے پاس مناسب مالی اور انتظامی اختیار نہیں ہوتا
انتظامی تقسیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے یا بڑے انتظامی یونٹس بننے سے حکومت عوام کے قریب آسکتی ہے اگر نئے صوبائی دارالحکومتوں میں انتظامی ادارے قائم ہوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تو پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے
تاہم صرف نئے صوبے بنا دینا غربت، بے روزگاری، بدعنوانی، اقربا پروری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا خودکار حل نہیں۔ اگر اختیارات اور وسائل چند بااثر افراد یا مرکزی اداروں کے ہاتھ میں ہی رہیں تو نئے انتظامی یونٹس بھی وہی مسائل پیدا کرسکتے ہیں جن کا سامنا موجودہ صوبوں کو ہے
اس لیے اصل ضرورت مضبوط مقامی حکومتوں کی بھی ہے بلدیاتی اداروں کو مستقل مالی وسائل، واضح اختیارات اور انتظامی خودمختاری دی جائے تو شہریوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جاسکتے ہیں اس نظام میں ضلعی اور شہری اداروں کو سڑکوں، پانی، صفائی، نکاسی آب، بنیادی صحت اور مقامی ترقی کے معاملات میں فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار حاصل ہونا چاہیے
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے آئینی راستہ بھی اہم ہے صوبائی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی اہم مرحلہ ہے اس لیے کسی بھی انتظامی تبدیلی کو سیاسی اتفاق رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا
ریفرنڈم کی تجویز بھی اسی وجہ سے اہم اور حساس بن جاتی ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار میں ریفرنڈم کا استعمال ہوچکا ہے، لیکن ان کے طریقہ کار، شفافیت اور عوامی شرکت پر سیاسی سطح پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں اس لیے اگر مستقبل میں انتظامی تقسیم کے بارے میں عوامی رائے لینے کی بات کی جاتی ہے تو اس عمل کی شفافیت، غیر جانب داری اور قانونی حیثیت انتہائی اہم ہوگی
ملک کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے طاقتور مراکز کے چکر نہ لگانے پڑیں سرکاری ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی تقسیم میں میرٹ اور شفافیت ہو، اقربا پروری اور بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کی جائے اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں
انتظامی اصلاحات کا مقصد سیاسی نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی آسان بنانا ہونا چاہیے اگر نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بحث آگے بڑھتی ہے تو اس میں مقامی آبادی کی رائے، معاشی وسائل، جغرافیائی حقیقت، انتظامی ضرورت اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی، تاکہ کوئی بھی فیصلہ مزید سیاسی کشیدگی کے بجائے بہتر حکمرانی اور عوامی فلاح کا ذریعہ بن سکے

قومی خبریں سے مزید