امریکی سیاست میں مسلم امریکی ایک بار پھر انتخابی ہدف، 2026 کے انتخابات سے پہلے اسلام اور مسلمانوں پر سیاسی حملوں میں تیزی
امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے تقریباً 2 ماہ قبل مسلم امریکی ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی بحث کے مرکز میں آ گئے ہیں،رائٹرز کی تازہ رپورٹ کے مطابق ریپبلکن امیدواروں اور رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں اور اسلام کو انتخابی مہم میں نمایاں موضوع بنایا جا رہا ہے، جبکہ مسلم امریکیوں کی سیاسی نمائندگی بھی گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے
رپورٹ کے مطابق مشی گن میں امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید اس بحث کا مرکزی کردار بن گئے ہیں،نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ انتخابی جلسے میں عبدالسید کو ’’انتہائی برا‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر دہشت گردی کا دفاع کرنے کا الزام عائد کیا،یہ تنقید مارچ میں ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقے میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد عبدالسید کے دیے گئے بیانات سے جوڑی گئی ہے،عبدالسید نے اپنے بعض سابقہ بیانات کی وضاحت اور معذرت بھی کی ہے
ٹیکساس میں گورنر گریگ ایبٹ بھی ایک مسلم کمیونٹی سے منسلک مجوزہ ترقیاتی منصوبے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور انہوں نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ’’شرعی عدالتوں‘‘ کی کوششوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،منصوبے کے منتظمین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے،الاباما میں سینیٹر اور گورنر کے امیدوار ٹومی ٹیوبرول نے بھی انتخابی مہم کے دوران ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ اور قومی سلامتی کے حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں
رائٹرز کے مطابق یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب امریکہ میں مسلم آبادی گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے،پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 5.5 ملین تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2007 میں یہ تعداد تقریباً 2.4 ملین تھی، مسلمان اب امریکی آبادی کا تقریباً 1.6 فیصد ہیں
لیکن اس کہانی کا دوسرا رخ بھی اہم ہے،مسلم امریکی اب صرف ووٹر نہیں رہے بلکہ امریکی سیاست کے مختلف درجوں پر منتخب نمائندوں کے طور پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ نیویارک سٹی میں زہران ممدانی پہلے مسلم میئر بن چکے ہیں، جبکہ مشی گن میں عبدالسید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بننے کی دوڑ میں ہیں،ورجینیا میں لیفٹینٹ گورنر غزالہ ہاشمی ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون بن چکی ہیں
یہ سیاسی پیش رفت اس سال خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ امریکہ میں 9/11 حملوں کی 25ویں برسی بھی منائی جا رہی ہے، اے پی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 25 برس بعد بھی اس واقعے کی یاد امریکی معاشرے کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے زندہ ہے،رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد قومی سلامتی، امیگریشن اور نگرانی کے نظام میں آنے والی تبدیلیوں نے مسلم امریکیوں اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کی زندگیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا
پیو ریسرچ سینٹر کی حالیہ تحقیق بھی ایک اہم تصویر پیش کرتی ہے،25 برس بعد مسلم امریکی امریکی مذہبی، سماجی اور سیاسی زندگی کا پہلے سے زیادہ نمایاں حصہ بن چکے ہیں، اگرچہ ایک طبقے میں آج بھی مسلمانوں کو 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے تناظر میں دیکھنے کا رجحان موجود ہے
مسلم امریکیوں کے لیے موجودہ سیاسی صورتحال کی پیچیدگی یہ ہے کہ ایک طرف ان کی سیاسی طاقت اور انتخابی اہمیت بڑھ رہی ہے، دوسری طرف بعض انتخابی مہموں میں مذہب اور قومی سلامتی کو جوڑ کر ان پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے،رائٹرز کے مطابق بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم مخالف بیانات انتخابی مہم میں خوف اور شناخت کی سیاست کو ابھارنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ قومی سلامتی، انتہا پسندی اور مذہب کے عوامی کردار سے متعلق حقیقی خدشات اٹھا رہے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم امریکی ووٹرز کو ایک یکساں سیاسی گروہ سمجھنا بھی درست نہیں، رائٹرز نے نشاندہی کی ہے کہ مسلم امریکیوں میں اسقاط حمل، ہم جنس شادی اور بعض دیگر سماجی معاملات پر قدامت پسند خیالات رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں غزہ، ایران، امیگریشن اور مسلم شناخت جیسے معاملات نے مسلم ووٹ کو امریکی سیاست میں مزید نمایاں کر دیا ہے
یوں 2026 کے انتخابات سے پہلے امریکی مسلم کمیونٹی ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے،25 برس پہلے 9/11 کے بعد جس کمیونٹی کو زیادہ تر قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھا جاتا تھا، وہ آج امریکی سیاست میں امیدوار، ووٹر، منتخب نمائندہ اور بعض صورتوں میں خود انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بن چکی ہے،اسی تبدیلی کے ساتھ سیاسی حملوں اور شناخت کی سیاست کی شدت بھی ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بن رہی ہے





