سفید فام اکثریتی نیو ہیمپشائر سینٹ پرائمری میں بنگلہ دیشی نژاد کرشمہ منظور کی 36 فیصد ووٹوں تک رسائی، پاکستانی کمیونٹی کے لیے سیاسی سوال کے ساتھ تاریخی حقائق بھی منہ پھاڑے کھڑے ہیں
نیو ہیمپشائر کی ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں کانگریس مین کرس پاپاس کے ہاتھوں شکست کے باوجود ڈاکٹر کرشمہ منظور نے امریکی سیاست میں ایک ایسی سیاسی پیش رفت ضرور دکھا دی ہے جسے محض ایک انتخابی ناکامی قرار دے کر نظر انداز کرنا مشکل ہوگا،محدود مالی وسائل، پہلی مرتبہ انتخاب لڑنے اور ریاستی سیاسی نظام میں کسی سابقہ منتخب عہدے کے بغیر میدان میں اترنے والی بنگلہ دیشی نژاد امریکی سائنس دان نے اپنے مضبوط حریف کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد ووٹ حاصل کیے
پاپاس تقریباً 62 فیصد ووٹ کے ساتھ ڈیموکریٹک نامزدگی جیت گئے اور اب وہ ریپبلکن امیدوار جان سنونو کے مقابلے میں نومبر کے عام انتخابات میں سینیٹ کی اس نشست کے لیے میدان میں اتریں گے جو ریٹائر ہونے والی سینیٹر جین شاہین کی جگہ خالی ہوئی ہے،ابتدائی نتائج میں بھی پاپاس کو واضح برتری حاصل تھی
لیکن کرشمہ منظور کی کہانی کا اصل وزن ان کے حاصل کردہ ووٹوں سے کہیں زیادہ ان کے پس منظر میں ہے
منظور ایک طبی سائنس دان ہیں اور 20 سال سے زیادہ عرصے تک بیماریوں کے علاج سے متعلق تحقیق سے وابستہ رہی ہیں،ان کی تخصص بایوکیمسٹری اور مالیکیولر بایولوجی میں ہے جبکہ ان کے تحقیقی کام کا بڑا حصہ اعصابی بیماریوں، خصوصاً مرگی، ڈپریشن اور الزائمر سے متعلق رہا ہے،ان کی اپنی انتخابی مہم کے مطابق انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ اس احساس کے بعد کیا کہ سائنسی تحقیق سے تیار ہونے والے بہت سے علاج عام امریکی شہری تک صرف اس لیے نہیں پہنچ پاتے کہ وہ مہنگے طبی نظام اور ہیلتھ انشورنس کی رکاوٹوں کے باعث ان تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا
ان کی تعلیمی زندگی بھی غیر معمولی ہے،کرشمہ منظور نے 1991 میں کیمبرج اسکول آف ویسٹن سے ہائی اسکول مکمل کیا، 1998 میں یونیورسٹی آف روچسٹر سے نیورو سائنس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور 2004 میں ماؤنٹ سائی نائی اسکول آف میڈیسن سے بایوکیمسٹری اور مالیکیولر بایولوجی میں پی ایچ ڈی کی،بعد میں انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں تحقیقی تربیت بھی حاصل کی اور مختلف حیاتیاتی اور طبی تحقیقاتی اداروں میں کام کیا
لیکن کرشمہ منظور کی سیاسی شناخت کو سمجھنے کے لیے ان کے سائنسی کیریئر سے زیادہ اہم ان کے خاندان کی تاریخ ہے
وہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے فوجی خاندان میں پیدا ہوئیں جس کی تاریخ خود برصغیر کی خونریز سیاسی تقسیم اور بنگلہ دیش کی آزادی کے ہنگامہ خیز برسوں سے جڑی ہوئی ہے،ان کے والد میجر جنرل محمد ابوال منظور ابتدا میں پاکستانی فوج میں افسر تھے، لیکن 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ شروع ہونے کے بعد وہ پاکستانی فوج سے نکل کر بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں شامل ہوگئے،وہ مکتی باہنی کے سیکٹر 8 کے کمانڈر بنے اور بعد میں آزاد بنگلہ دیش کی فوج میں اہم عہدوں تک پہنچے،انہیں جنگ آزادی میں بہادری کے اعتراف میں ’’بیر اتم‘‘ کا اعزاز بھی دیا گیا
کرشمہ منظور کی زندگی کا سب سے المناک باب 1981 میں آیا
30 مئی 1981 کو بنگلہ دیش کے صدر ضیاء الرحمن کو چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا،اس بغاوت کا تعلق میجر جنرل محمد ابو منظور سے بھی جوڑا گیا، جو اس وقت چٹاگانگ میں 24 انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر تھے،تاریخی ریکارڈ کے مطابق فوج کے اندر طاقت، کمان اور سیاسی سمت کے بارے میں شدید اختلافات موجود تھے،منظور کو ایک غیر جنگی عہدے پر ڈھاکا منتقل کرنے کا فیصلہ بھی ان کشیدگیوں میں ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس قتل کی مکمل منصوبہ بندی اور مختلف فوجی افسران کے اصل کردار کے بارے میں آج بھی تاریخی تنازعہ موجود ہے
ضیاء الرحمن کے قتل کے بعد محمد ابو منظور نے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا،ان کی موت کے بارے میں سرکاری بیانیہ اور بعد کی تحقیقات میں اختلاف رہا،سرکاری موقف میں کہا گیا کہ انہیں مشتعل فوجیوں نے قتل کیا، جبکہ بعد کی تحقیقات اور بعض گواہیوں میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ انہیں چٹاگانگ چھاؤنی پہنچنے کے بعد قتل کیا گیا،بنگلہ دیش کے معروف اخبار ’’دی ڈیلی اسٹار‘‘ نے بھی اس واقعے کے بارے میں سرکاری کہانی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور بتایا کہ منظور کی موت کے حالات آج تک متنازعہ رہے ہیں
یہی وہ خاندانی تاریخ ہے جس نے کرشمہ منظور کی سیاسی سوچ پر گہرا اثر ڈالا،2026 کی ایک تفصیلی گفتگو میں انہوں نے خود بتایا کہ ان کی خارجہ پالیسی اور حکومت میں طاقت کے ارتکاز کے بارے میں سوچ پر ان کے خاندان کی تاریخ کا اثر ہے،ان کے مطابق جمہوریت، جنگ اور ریاستی طاقت ان کے لیے محض کتابی موضوعات نہیں بلکہ خاندانی تجربے کا حصہ ہیں
اس پس منظر کے ساتھ ان کا نیو ہیمپشائر جیسی ریاست سے امریکی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑنا اپنی جگہ ایک اہم سیاسی واقعہ ہے،نیو ہیمپشائر کی آبادی میں سفید فام امریکیوں کی اکثریت بہت نمایاں ہے، جبکہ ریاست میں بنگلہ دیشی نژاد آبادی انتہائی چھوٹی ہے،ایک حالیہ آبادیاتی تخمینے کے مطابق نیو ہیمپشائر میں بنگلہ دیشی نژاد آبادی چند سو افراد پر مشتمل ہے
یعنی جس ریاست میں بنگلہ دیشی برادری انتخابی طاقت کے اعتبار سے تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، وہاں بنگلہ دیشی نژاد ایک خاتون نے امریکی سینیٹ کی ڈیموکریٹک نامزدگی کے لیے کھڑے ہو کر 3 میں سے تقریباً 1 ووٹ حاصل کیا،یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ کرشمہ منظور کسی ایسے حلقے میں نہیں لڑ رہی تھیں جہاں ان کی اپنی قومی یا نسلی برادری فیصلہ کن انتخابی قوت ہو،ان کی مہم کا انحصار بنیادی طور پر ترقی پسند سفید فام، نوجوان اور غیر روایتی ڈیموکریٹک ووٹروں پر تھا
یہاں بنگلہ دیشی امریکی برادری کی وسیع تر کہانی بھی سامنے آتی ہے
نیویارک میں بنگلہ دیشی برادری اگرچہ تاریخی اعتبار سے نسبتاً نئی جنوبی ایشیائی آبادیوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن اس نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے،نیویارک شہر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش سے پیدا ہونے والے تارکین وطن کی تعداد اب تقریباً 110,800 تک پہنچ چکی ہے، جو ایک دہائی میں 45 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے،بنگلہ دیشی تارکین وطن اب نیویارک شہر میں جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے بڑے سیاسی گروہوں میں شامل ہیں، اور امریکن بنگلہ دیشی کمیونٹی کے درمیان کئی انتہای بااثر سماجی تنظیمیں مثالی حیثیت رکھتی ہیں جنکی ممبر شپ لاکھوں میں بتای جاتی ہے
خاص طور پر کوئنز بنگلہ دیشی امریکی زندگی کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے،تاریخی مردم شماری کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ نیویارک میں آباد بنگلہ دیشی آبادی کا بڑا حصہ کوئنز میں مرکوز رہا ہے،اس کے ساتھ بروکلین اور برونکس میں بھی برادری پھیلی، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ لانگ آئی لینڈ کی طرف نقل مکانی میں بھی اضافہ ہوا
یہی تبدیلی امریکی سیاست میں بھی دکھائی دینے لگی ہے
کبھی امریکی سیاست میں بنگلہ دیشی نژاد امریکیوں کی شناخت زیادہ تر تارک وطن کاروباری، چھوٹے کاروبار، ٹیکسی، ریستوران اور محنت کش طبقے کی برادری کے طور پر ہوتی تھی،اب نئی نسل کے افراد طب، سائنس، قانون، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سیاست میں داخل ہو رہے ہیں۔ کرشمہ منظور اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہیں
اور یہاں پاکستانی امریکی برادری کے لیے بھی ایک آئینہ موجود ہے
پاکستانی امریکی آبادی امریکہ میں بنگلہ دیشی برادری سے پرانی اور کئی اعتبار سے زیادہ مستحکم ہے،پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، کاروباری شخصیات، ماہرین تعلیم اور پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد کئی دہائیوں سے امریکی معاشرے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاشی اور پیشہ ورانہ کامیابی کو انتخابی سیاست میں اسی طاقت میں تبدیل کیوں نہیں کیا جا سکا؟
یہ سوال اس لیے بھی تلخ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی میں بعض اوقات کسی مقامی سطح کی انتخابی مہم میں معمولی شرکت یا کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار ہی نہیں ایسے افراد بھی برسوں تک اپنے آپ کو فخر سے ’’کانگریس مین‘‘ کہلوانے کا تاثر پیدا کرتے رہے ہیں جنہوں نے امیدواری کا صرف فارم بھرا اور پارٹی کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد کاغذات نامزدگی واپس لینے پڑے ، یعنی کے حقیقت میں وہ کانگریس تک پہنچنے سے بہت دور رہے، دوسری طرف ایک نسبتاً نئی بنگلہ دیشی امریکی برادری کی بیٹی نے ایک ایسی ریاست میں امریکی سینیٹ کی نامزدگی کے لیے انتخاب لڑا جہاں اس کی اپنی برادری کی تعداد ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور تقریباً 36 فیصد ووٹ حاصل کر لیے
یہی اصل سبق ہے
کرشمہ منظور سینیٹ کی ڈیموکریٹک نامزدگی نہیں جیت سکیں، ان کے سامنے کرس پاپاس کے پاس کہیں زیادہ مالی وسائل، پارٹی تنظیم اور سیاسی تجربہ تھا،انتخابی مہم کے مالی ریکارڈ کے مطابق پاپاس نے منظور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رقم جمع کی تھی
لیکن 36 فیصد ووٹ اس بات کا ثبوت ضرور ہیں کہ ایک پہلی مرتبہ سیاست میں آنے والی بنگلہ دیشی نژاد خاتون، جس کے پاس نہ کوئی خاندانی سیاسی سلطنت تھی، نہ بڑے سیاسی عطیہ دہندگان کا نیٹ ورک، نہ کسی بڑے قومی عہدے کا سابقہ تجربہ، وہ امریکی سینیٹ کی دوڑ میں پارٹی کے مضبوط امیدوار کے مقابلے میں ایک قابل ذکر سیاسی قوت بن سکتی ہے
منظور خود ترقی پسند ڈیموکریٹک دھارے سے وابستہ ہیں، اسی سیاسی لہر میں جس نے اوکاسیو کورٹیز، زوہرن ممدانی اور دیگر ترقی پسند سیاست دانوں کو قومی سطح پر نمایاں کیا ہے، کرشمہ جو نظریاتی طور پر سوشلسٹ ڈیموکریٹ تصور کی جاتی ہیں تاہم وہ سوشلسٹ کلب کی نہ تو ممبر ہیں نہ ہی ابھی تک وہ خود کو سوشلسٹ ڈیموکریٹ کہلواتی ہیں ، ڈیموکریٹ حلقوں میں انہیں ترقی پسند ڈیموکریٹ قرار دیا جاتا ہے
یوں کرشمہ منظور کی شکست کو صرف ’’ہار‘‘ کہنا شاید اس انتخاب کی اصل کہانی کو چھوٹا کر دینا ہوگا،ایک ایسی ریاست میں جہاں بنگلہ دیشی آبادی چند سو افراد تک محدود ہے، ایک بنگلہ دیشی نژاد خاتون نے امریکی سینیٹ کی ڈیموکریٹک پرائمری میں پارٹی کے طاقتور امیدوار کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے
اور جنوبی ایشیائی امریکی سیاست کے لیے اس سے بڑا سوال شاید یہی ہے کہ امریکہ میں کون سی کمیونٹی پہلے اپنی آبادی بڑھاتی ہے، پھر اپنی نئی نسل کو تعلیم دیتی ہے، پھر مقامی سیاست میں داخل کرتی ہے اور آخرکار اپنے امیدوار کو ایسی نشستوں پر کھڑا کرتی ہے جہاں کامیابی کا انحصار صرف اپنے لوگوں کے ووٹوں پر نہیں بلکہ پوری امریکی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے پر ہوتا ہے
بنگلہ دیشی امریکی برادری ابھی نسبتاً نئی ہے، مگر اس کی سیاسی خود اعتمادی تیزی سے پرانی کمیونٹیوں کو چیلنج کرتی دکھائی دے رہی ہے،نیویارک کے کوئنز سے لے کر لانگ آئی لینڈ اور ٹیکساس کے بڑے شہروں تک پھیلتی یہ برادری اب صرف اپنی تعداد نہیں بڑھا رہی، اپنی اگلی نسل کو امریکی سیاسی نظام میں جگہ بنانے کے لیے بھی تیار کر رہی ہے
کرشمہ منظور کی مہم شاید آج سینیٹ کی نشست تک نہ پہنچ سکی، مگر 2026 کی نیو ہیمپشائر پرائمری نے ایک بات ضرور واضح کر دی ہے،امریکی سیاست میں جنوبی ایشیائی برادریوں کے درمیان مقابلہ اب صرف آبادی، دولت یا کاروبار کا نہیں، سیاسی تنظیم، نئی نسل اور انتخابی میدان میں اترنے کی جرات کا بھی ہے





