Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مسوری میں کانگریشنل نقشے پر عدالتی ٹکراؤ، ٹرمپ کی حمایت یافتہ ریپبلکن حدبندی پھر بحران کا شکار

مسوری میں کانگریشنل نقشے پر عدالتی ٹکراؤ، ٹرمپ کی حمایت یافتہ ریپبلکن حدبندی پھر بحران کا شکار

مسوری میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے کانگریشنل اضلاع کی نئی حدبندی پر عدالتی جنگ نے غیر معمولی صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں ایک ہی روز امریکی سپریم کورٹ اور وفاقی عدالت کے فیصلوں نے بظاہر ایک دوسرے سے متضاد قانونی صورتحال پیدا کر دی ہے
امریکی سپریم کورٹ نے جسٹس بریٹ کیوانا کے ذریعے مسوری حکام کی اس ہنگامی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ریپبلکنز کی حمایت سے تیار کیے گئے نئے کانگریشنل نقشے کو نومبر کے عام انتخابات میں استعمال کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی,اس فیصلے کے نتیجے میں مسوری سپریم کورٹ کا گزشتہ ہفتے کا فیصلہ برقرار رہا، جس کے تحت نیا نقشہ اس وقت تک استعمال نہیں کیا جا سکتا جب تک نومبر میں ریاست کے ووٹرز اس کی منظوری نہ دے دیں
لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد ایک وفاقی جج نے اس کے برعکس ایک عارضی حکم جاری کرتے ہوئے مسوری کو پرانے کانگریشنل نقشے پر واپس جانے سے روک دیا،وفاقی جج اسٹیفن کلارک نے قرار دیا کہ پرانے نقشے کی طرف واپسی سے نومبر کے انتخابات میں شدید افراتفری پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ اگست میں ہونے والے پرائمری انتخابات نئے نقشے کے تحت ہی منعقد کیے جا چکے ہیں اور امیدوار بھی اسی بنیاد پر نامزد ہو چکے ہیں
یوں مسوری میں اس وقت بنیادی سوال یہ بن گیا ہے کہ نومبر میں ووٹر آخر کون سے کانگریشنل اضلاع کے تحت ووٹ ڈالیں گے؟
تنازعہ کی بنیاد ریپبلکن حکومت کی جانب سے تیار کردہ نئے نقشے پر ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔ اس نقشے کا سب سے بڑا سیاسی اثر کنساس سٹی کے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایمانوئل کلیور کے پانچویں ضلع پر پڑتا ہے،نئی حدبندی میں کنساس سٹی کے حصے کو ریپبلکنز کے زیرِ نمائندگی اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا اور باقی ضلع کو مشرق کی جانب دیہی اور زیادہ ریپبلکن علاقوں تک پھیلا دیا گیا
مسوری سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ شہریوں کی جانب سے نئے نقشے کے خلاف جمع کرائی گئی ہزاروں دستخطوں پر مشتمل درخواست کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا چاہیے،عدالت کے مطابق درخواست دسمبر میں جمع ہو جانے کے باعث نئی حدبندی کو حتمی قانون کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی،ریاستی سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈینی ہاسکنز نے ابتدا میں اس ریفرنڈم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم عدالت کے حکم کے بعد انہوں نے نقشے پر ریفرنڈم کو نومبر کے بیلٹ پر شامل کر دیا
دوسری جانب وفاقی جج کلارک نے کہا کہ انتخابات کے درمیان اضلاع تبدیل کرنا امیدواروں اور ووٹرز دونوں کے لیے غیر معمولی انتشار پیدا کرے گا،ان کے مطابق پرائمری انتخابات ایک نقشے پر کرانے کے بعد عام انتخابات دوسرے نقشے پر کرانا انتخابی عمل کی شفافیت اور انتظامی ترتیب کو شدید متاثر کر سکتا ہے،ان کا عارضی حکم فی الحال 14 دن کے لیے نافذ ہے اور اس دوران مزید قانونی کارروائی متوقع ہے
مسوری کی ریپبلکن اٹارنی جنرل کیتھرین ہاناوے نے کہا ہے کہ ریاست وفاقی عدالت کے حکم پر عمل کرے گی، جبکہ نئے نقشے کے مخالف گروپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایک وفاقی ضلعی جج مسوری سپریم کورٹ کے حکم کو کالعدم نہیں کر سکتا
اس قانونی کشمکش کی اہمیت صرف مسوری تک محدود نہیں،ریپبلکن قیادت نے ٹرمپ کی حمایت سے متعدد ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے کانگریشنل اضلاع کی نئی حدبندی کے ذریعے ایوانِ نمائندگان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے،مسوری بھی اسی وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے
اب معاملہ دوبارہ اپیل کی عدالتوں میں جا سکتا ہے، جبکہ 19 ستمبر تک بیرونِ ملک مقیم امریکی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کو غیر حاضر ووٹ بھیجنے کی وفاقی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے،اس لیے مسوری کے انتخابی حکام کے لیے یہ فیصلہ فوری اور انتہائی اہم ہو گیا ہے کہ نومبر کے بیلٹ کس نقشے کے مطابق تیار کیے جائیں گے

قومی خبریں سے مزید